محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ احساسِ زیاں
ضائع ہونے کااحساس بڑھتاجارہاتھا۔ وہ خدا کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے ضائع نہ ہونے کیلئے دعا گوتھا۔
استاد نے بتایاکہ بندگی کاایک حصہ یہ ہے کہ رب سے رجو ع کیاجائے۔ جو رب کے بغیر زندگی گزارے گا، اس کو ضائع تو ہوناہی ہے۔
۲۔ ہمت والے اشخاص
آپ نے دوکان چھوڑ دی ؟ہاں صاحب ، کیوں چھوڑ دی؟ دوکان کاروبار کے لئے کرایہ پرلی جاتی ہے۔ کاروبار ہی نہ ہوتو دوکاندار کاوجود خطرے میں پڑجاتاہے ۔خود کوخطرے کے نقصان سے بچانے کے لئے دوکان چھوڑ دی ۔ اچھاکیاجناب، میراحال تو یہ ہے کہ پچھلے دوسال سے کاروبار بند کرنا چاہ رہاہوں ،بند نہیں کرپاتاہوں ، آپ ہمت والے شخص ہیں، مبروک الف مبروک
۳۔ نیک نام شہر
فجر کی جماعت ختم ہوچکی ہے۔اس شہرکی تمام مساجد کے مقتدی اٹھتے ہیں اور مساجد سے باہر آجاتے ہیں ۔
اب انھیں منتشررہ کر ایک دوسرے کے خلاف زبانی،اورتحریری زورآزمائی کرنی ہے۔ ایک دوسرے کونیچے دِکھاناہے۔ ایک دوسرے کی لڑکے؍ لڑکیوں کی برائیاں گنواتے ہوئے آپس میں شادیاں نہیں کرانی ہیں۔ ضلع انتظامیہ کے سامنے خود کو اچھااور دوسرے کو برا ثابت کرنے کی ہرممکن سعی کرنی ہے۔ اپنی اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹیوںمیں دوسرے پرلگام کسنے کے منصوبے بنانے ہیں۔ ایک دوسرے کے تعلیمی اِداروں میں طلبہ کے خلاف تعلیمی سازش رچانی ہے بلکہ ان کی بیٹھکیں بھی ایسے ہی کام کی گواہ ہیں۔ سویہ سب کرنا ان کافرض ِ منصبی ہے ، ہرنماز کے بعد وہ اپنا فرضِ منصبی بخوبی اداکرنا نہیں بھولتے ہیں۔
یقین نہیں آرہانا؟، توپھر اُس شہر ِ نیک نام کوپہنچ کر، وہاں کچھ دِن رہ کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ان کی شادیوں میں بھی شریک ہونا ، دھوم دھام سے شادیاں کی جاتی ہیں۔ ولیمہ مسنونہ میں ڈی جے بجانے اورعیش ومستی کے گانے گانے کاچلن عام ہے۔کھانے بڑے خوش ذائقہ ہواکرتے ہیں۔لطف لیاکریں۔
اس شہر میں کوئی کسی کوٹوکتانہیں ہے۔ ’’جی میں جو آئے کرنے کا ،کسی سے نہیں ڈرنے کا‘‘ اس سلوگن کے تحت کی جانے والی زندگی کراہ رہی ہے۔ یقین بھلے نہ کریں ۔
۴۔ لتو بابا
پھر اس نے سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر اپنالکھاہوا افسانچہ پوسٹ کرکے سوگیا۔ روز کا معمول ہے ۔ کھانا کھانابھول سکتاہے ، افسانچے پوسٹکرنا نہیں بھولتا۔ ایک لت میں مبتلا ہے۔ ’’لتو بابا‘‘ بن چکاہے۔
۵۔ بھکت لوگوں کے لئے
سوچتابہت کچھ ہے لیکن جب لکھنے بیٹھتاہے تو خود کو بند ربنانے کاکام پوری دلجمعی سے کیاکرتاہے تاکہ لوگ ہنومان بھکت بنے رہ سکیں ۔
۶۔ ریزلٹ جاری
پھر ریزلٹ جاری کردیاگیا۔ کئی ایک طلبہ نے خودکشی کرلی۔یہ سب معمول میں داخل ہے۔ طلبہ کے مرنے سے کسی کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔والدین البتہ ٹوٹ جاتے ہیں ۔ سسٹم نہیں ٹوٹتاوہ مضبوط اور مستحکم ہے۔
