ڈاکٹر شارب رضوی بارہ بنکی

جب سے دنیا بنی ہے تبھی سے صحت و مرض اور موت وحیات کا سلسلہ جاری ہے انسان اپنی کوششوں اور خالق حقیقی کی توفیق سے کسی موذی مرض کا علاج ڈھونڈ بھی لیتا ہے تو اس بیماری کی جگہ ایک نئی بیماری وجود میں آجاتی ہے اور کبھی کبھی تو ایسی ایسی بیماریاں پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں جو صرف ایک ملک اور ایک علاقے میں نہیں بلکہ بہت سارے ملکوں بہت سارے علاقوں اور بہت سارے طبقات کو نشانہ بنا لیتی ہیں اور انسانی نظام زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے جیسا کہ ابھی ماضی قریب میں ہم ایسی ایک بیماری سے دوچا ہوکر اس کی اذیتوں کا سامنا کرچکے ہیں اسرائیل دنیا کے لئےایسی ہی ایک بیماری بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ کینسر جیسے مرض سے کم نہیں ہے کیونکہ

کوئی بھی انسان جب کینسر کا نام سنتا ہے تُو اُس کے ذہن میں ایک مہلک بیماری کی تصویر اُبھرتی ہے جسکے خطرناک نتائج آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔

بالکل اسی طرح اسرائیل کا نام ذہن میں آتے ہی بچّوں اور عورتوں کے قاتل کے ساتھ ساتھ غزہ میں اسرائیلی دہشت گردوں کی جماعت کا تصوّر ذہن میں اپنا ایک منفرد اور خوفناک خاکہ مرتّب کرنے لگتا ہے جہاں عربی خطّے میں عہد رواں کی کربلا نظروں کے سامنے گھوم جاتی ہے یہ وہی عرب مُلک ہے جسنے پوری دنیا پر اسلامی حکومت قائم کی تھی آج اُسی خطّے کے عربی حکمراں کتنی بے غیرتی کے ساتھ فلسطینی عورتوں، بوڑھے مردوں اور بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اِنکی زبان گنگ ہو کر ره گئی ہے فلسطینیوں کی زندگی کو یہودیوں نے تنگ کر دیا ہے اور انہیں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے جس طرح ان پر ظُلم کیا جا رہا ہے وہ ناقابلِ فراموش ہے اِنہیں اِس قدر ذلیل و رسوا کِیا جا رہا ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ہے ان کو ذلیل کرنے میں یھودیوں کی طرف سے کوئی کسر نہیں رکھی جاتی ہے اگر کبھی کسی مُسلمان نے مزاحمت کرنے کی کوشش بھی کی تو اُسکا اور اُس کے پورے خانوادے کا قتل لازمی ہے اس علاقے کے صدر جناب محمود عبّاس صاحب غالبا” صِرف نام کے مُسلمان ہیں انکے جسم میں نہ جانے کون سا خون رواں دواں ہے جس طرح آل سعود کے اندر بے حسی والا خون دوڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی فوج کا ظُلم و ستم آل سعود کو نظر نہیں آتا افسوس کا مقام ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کردی ہے اخلاقی اصول پامال کر دیئے گئے ہیں اِنسانیت نے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا ہے اسرائیلی حملے بچّوں اور عورتوں کی چیخوں سے اِس طرح گونج رھے ھیں کہ فضاء میں اُڑنے والے ڈرون اور طیاروں کی آوازوں کے علاؤہ کوئی آواز زمین پر سنائی نہیں دیتی پورا فلسطین بھوک اور پیاس سے دو چار ہے ابھی کل کی بات ہے اسرائیلی فوجیوں نے شہر میں پانی سپلائی بند کردی اور اُس عمارت پر بم دھماکہ کر کے اُسے برباد کردیا جو پورے فلسطین میں پانی کی کمی کو پورا کرتی تھی فلسطین میں لاشوں کو دفنانے کے لئے زمین کم پڑ گئی ہے کفن میسّر نہیں ہیں لاشوں کے چیتھڑے امن کے علمبرداروں اور عربی حکمرانوں کو منھ چڑھا رہے ہیں ان حملوں میں جو زندہ بچ گئے ہیں وہ یتیم فلسطینی بچے عورتیں روز و شب نقلِ مکانی پر مجبور ہیں۔ فلسطینی شہداء کی تعداد ایک امریکی میگزین کے مطابق 1,86,000 سے زائد ہو چکی ہے اور گھائلوں کی تعداد 1,00,000 سے بھی اوپر ہو گئی ہے مرنے والوں میں بچّے اور عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو حملوں میں بچ گئے ہیں اسرائیلی فوج اُنہیں بھوک اور پیاس کی شدّت سے مارنے پر آمادہ ہے اور مصلحت پسند عربی حکمرانوں کی جماعت ان پیاسوں کو الوداع کہنے کے لئے اسرائیلی حکومت سے مفید مذاکرات کیلئے انتہائی گرمجوشی سے استقبال میں پلکیں بچھاے خیر مقدم کو تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے