ہمایوں اقبال ندوی

گیاری، ارریہ 

مورخہ ۲۱/جولائی ۲۰۲۴ء کوپٹنہ میں سیمانچل کے معروف ادیب و قلمکار اور مایہ ناز استاد جناب مولانا کبیر الدین فوزان صاحب کا دوران علاج انتقال ہوگیا تھا، اور بتاریخ ۲۳/جولائی ۲۰۲۴ء بعد نماز ظہر مرحوم کی اپنے آبائی گاؤں گنڈواس میں تدفین ہوچکی ہے۔ باری تعالٰی اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور جنت الفردوس نصیب کرے، آمین۔

یوں تو زمانہ طالب علمی سے ہی مولانا کبیر الدین فوزان صاحب کا نام سنا کرتا تھا مگر ملنے کا موقع نہیں مل سکا۔ دارالعلوم ضیاء الاسلام بوجگاوں ضلع پورنیہ میں دارالعلوم ندوة العلما کی سب سے پرانی شاخ ہے،یہ فوزان صاحب کے علاقہ میں واقع ہے، تقریبا انیس سال پہلے جب بحیثیت مدرس وہاں میری تقرری ہوئی تو قریب سے مولانا کو دیکھنے، سننے اور ملنے کا موقع نصیب ہوا۔ مولانا کی علمیت کا علاقہ میں بڑا شہرہ تھا،جس سے ملئے وہ فوزان صاحب کی اجتہادی صلاحیت کا معترف نظر آتا، جس انٹرویو میں مولانا کی موجودگی ہوتی تو امیدواروں کی حالت غیر نظر آتی، کبیر الدین کا سامنا کرنا یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔

یہ باتیں سن سن کر میں بھی مرعوب ہوا کہ اتنی بڑی شخصیت سے ملاقات کے وقت کیا گفتگو کی جانی چاہیے؟ اسی ادھیڑ بن میں ایک دن حضرت سے میری ملاقات ہوگئی، اپنا نام و مقام بتلایا تو کہنے لگے کہ "مولوی منصور میرا شاگرد ہے جو آپ کے والد ہیں” مزید انتظار رہا کہ اپنے علمی و قلمی کام پر روشنی ڈالیں گے، حضرت نے اپنی تعریف میں اس کے بعد نہ کسی کتاب کانام لیا اور نہ اپنی کسی علمی کاوش سے کام لیا،بس اپنے شاگرد سے اپنا تعارف تمام کردیا۔ یہ ادا مجھے بہت پسند آئی، اس جملہ میں اتنی کشش اور اپنائیت تھی کہ پہلی ملاقات میں ہی اجنبیت چلی گئی، اور یہیں سے دادا پوتا کا رشتہ قائم ہوگیا، اسی نسبت تاحیات مجھ سے مولانا کی بڑی بے تکلفی رہی،ہمیشہ شفقت کا معاملہ فرمائے، بوجگاوں کے بعد ۲۰۱۱ء میں میری بحالی ارریہ شہر کے قدیم اور تاریخی ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ میں ہوگئی، مولانا کا اکثر یہاں آنا جانا رہتا، جب بھی تشریف لاتے مولوی ھمایوں کہاں ہیں؟یہ کہ کر تلاش کرواتے اور ڈھونڈ کر ملنے کا موقع عنایت فرماتے۔ فجزاهم الله

والد صاحب کی خیریت بھی ہمیشہ لیا کرتے تھے، اس بات سے ہمارے دل میں مولانا کی عظمت اور بڑھتی چلی گئی کہ اس بڑھاپے کے عالم میں جب ہر کوئی اپنی فکر میں محو رہتا ہے مولانا کو اپنے شاگردوں کی فکر دامنگیر ہے۔کئی بار اس احساس کا اظہار میں نے اپنے ابو جان سے بھی کیا اور خود پر فوزان صاحب کی ذرہ نوازی بتلائی تو والد صاحب نے بالتفصیل مولانا مرحوم کی یہ خوبیاں مجھ سے بیان کیں کہ:

” ۱۹۶۴ء میں مولانا کبیر الدین فوزان صاحب مدرسہ تنظیمیہ بارا عیدگاہ ضلع پورنیہ میں ہمارے بہت ہی مخلص مشفق استاد رہے ہیں، فقہ و عربی ادب کی کتابیں ہم لوگوں نے ان سے پڑھی ہے۔ نہایت ہی خاکسار اور ملنسار انسان اور ہم طلبہ کے لئے وہ ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک مشفق باپ کی مانند تھے۔ نادار طلبہ کا مولانا بڑا خیال فرماتے، کسی طالب علم کو کبھی رنجیدہ اور کبیدہ خاطر دیکھا فورا اس کی تحقیق فرماتے اور ان کی پریشانی کو دور کرنے کی سعی کرتے، روایتی طریقہ تعلیم کے قائل نہیں تھے، ان کا درس سوال و جواب کا مجموعہ ہوتا، طلبہ کو درسگاہ میں بولنے اور سوال پوچھنے کی مکمل آزادی حاصل تھی، سبق یاد نہیں ہونے پر بچوں کی مار پیٹ کے سخت مخالف تھے، ایسے اساتذہ جو مارتے ان سے مولانا کی بنتی بھی نہیں تھی، بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان تربیت کا خاص خیال فرماتے، مغرب کی نماز کے بعد ہر کمرے میں جا جا کر بچوں کی نگرانی اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ مولانا ابراہیم تاباں، مولانا اسماعیل رموزی، مولانا محسن ندوی، مولانا کبیر الدین اصغر، مولانا وسیم اختر جیسے باصلاحیت اساتذہ کرام کی ایک جامع تعداد بارا عیدگاہ میں اس وقت موجود تھی، طلبہ جلدی ان حضرات سے ملنے کی ہمت نہیں کرتے مگر مولانا سے بے باکانہ انداز میں طلبہ اپنے مسائل پیش کیا کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جب فوزان صاحب جامعہ دارالہدی کریم نگر حیدرآباد کی دعوت پر بحیثیت مدرس جانے لگے تو طلبہ میں صف ماتم بچھ گئی اور خود بھی مولانا آبدیدہ ہوگئے، اور وعدہ کیا کہ میں جلد ہی لوٹ کر تمہارے درمیان آؤں گا، ابھی کچھ حالات ہمارے ساتھ ہیں، تم لوگ صبر کرو، اس وعدہ کو پورا بھی کیا، کم وبیش پانچ سال رہ کر مدرسہ تنظیمیہ بارا عیدگاہ میں آکر دوبارہ استاد ہوئے۔ ارریہ سے مرحوم کو کافی لگاؤ رہا ہے، ادبی علمی اور فکری مجلس میں شرکت کے لئے حاضر ہوجاتے، زبیر الحسن غافل، قمر مسعود صاحب، ماسٹر عبدالحلیم صاحب، ڈاکٹر سالک صاحب، ہارون رشید غافل صاحب، پروفیسر مرحوم اختر حسین صاحب سے بڑی قربت رکھتے تھے، اور جب بھی ارریہ آتے تو اپنے دو شاگردوں کو ضرور ڈھونڈ کر حال واحوال لیا کرتے، انمیں ایک مولانا نسیم الدین صاحب کھریہ بستی کے اور دوسرا میں ہوا کرتا تھا”۔

آج مولانا کبیرالدین فوزان صاحب کے وصال پر لوگ کہ رہے ہیں کہ سیمانچل کے ایک بڑے ادیب و قلمکار کا انتقال ہوا ہے یہ کہنا بجا ہے اور مبنی برحق ہے،اس میں اس جملہ کا بھی اضافہ ہونا چاہیے کہ سیمانچل کے ایک بڑے مشفق و مربی استاد کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہ نقصان ہمارے لئے زیادہ بڑا ہے۔ادیب و قلمکار کی آج کے زمانہ میں کمی نہیں ہے، مگر ایک استاد کی جو مذکورہ بالا اوصاف کے حامل ہوں، باپ کی مانند شفیق ہوں،اپنے شاگردوں کے حق میں بہترین مربی ہوں اوراس رشتہ کا تا حیات پاس و لحاظ رکھتے ہوں، بڑی کمی نظر آتی ہے۔جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معلمانہ زندگی ہمیں ان اوصاف سے متصف ہونے کی تعلیم کرتی ہے۔۔حضرت مولانا کبیر الدین فوزان صاحب مرحوم نے اس نقش قدم پر چلنےکی سعی کی ہے۔ باری تعالٰی شرف قبولیت سے نوازے، آمین۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

 

ہمایوں اقبال ندوی

گیاری، ارریہ

4/اگست ۲۰۲۴ء بروز یکشنبہ

رابطہ، 9973722710

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے