عبدالقیوم ہمدم علی نگری
خواہشوں نے مٹادیا مجھ کو
چاہتوں نے فنا کیا مجھ کو
جب سے بدلا ہے رنگ جسمانی
عاشقوں نے بجھا دیا مجھ کو
جانےکیسے ہیں لوگ دنیا میں
میرا جیون بھلا دیا مجھ کو
تھا ارادہ فلک کو چھونے کا
خاک میں ہی ملا دیا مجھکو
کسطرح کوئی بیٹی ابھرےگی
دن دھاڑے جلادیا مجھ کو
چیخیں سنکربھی نہ حمایت کی
بے رحم ہو بتا دیا مجھ کو
بیٹیاں دیش کی پریشاں ہیں
زخمی دل نے جگا دیا مجھ کو
بات ہمدم کی یہ حقیقت ہے
پا پیوں نے رلا دیا مجھ کو
