کچھ وعدے جو وفاء نہ ہوسکے!
بیدر۔ 5؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب سید رضوان ہمناآباد کے بموجب بیدر تا گلبرگہ نئی ریلوئے لائن کا سنگ بنیاد اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں رکھا گیا تھاجس کے پہلے مرحلے کا افتتاح منموہن سنگھ کی حکومت میں 2013کے آخر میں اُس وقت کے مرکزی وزیر ریلوئے ملیکارجن کھرگے نے بیدر تا ہمناآباد لائن کا افتتاح کیا تھا، دوسرا مرحلہ ہمناآباد تا گلبرگہ ریلوئے لائن کا افتتاح 2017میں اکٹوبر کے مہینہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں بیدر سے عمل میں لایا گیا تھا۔بیدر تا گلبرگہ مکمل ریلوئے لائن کا آغاز ہو کر چھ سال مکمل ہوچکے ہیں ۔پچھلے دس سالوں سے اس ریلوئے لائین پر ریل ہفتہ میں چھے دن چلائی جا نے لگی ہے اتوار کے دن اس کو تعطیل ہوتی ہے ،روزانہ اس ٹرین سے کئی مسافر بیدر تا گلبرگہ کے لئیے سفر کرتے ہیں کئی مسافر ریل کے سفر کو نظر انداز کرتے ہیں اس کی ایک اہم وجہہ اس کی رفتار ہے، اگر چہ کے ا س ر یل کی رفتار بڑھائی گئی ہے پہلے کے مقابلے میں۔ ریل سے بیدر تا گلبرگہ کے لئیے سفر کرے تو ساڑے تین گھنٹہ سے زائد کا وقت لگتا تھا مگر موجودہ وقت میں رفتار بڑھانے سے وقت کی کچھ بچت ہو رہی ہے اگر رفتار مزید بڑھائی جائے تو مسافرین اس کو ترجیح دے سکتے ہیں ،شروعات میں بید رتا گلبرگہ سفر کرنے کاکرایہ35روپئے تھا بیدر تا ہمناآباد 15اور ہمناآباد تا گلبرگہ 20روپئے تھا مگر موجود وقت میں کرایہ میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے ابھی بیدر تا گلبرگہ کے لئیے 80روپئے بیدر تا ہمناآباد کے لئیے 35روپئے اور ہمناآباد تا گلبرگہ کے لئیے 45روپئے رکھا گیا ہے ۔جس وقت اس ریلوئے لائین کا افتتاح عمل میں لایا گیا تھا اُس وقت یہ کہا گیا تھا کے اس لائین پر نئی ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی جیسے کے بیدر حیدرآباد انٹر سٹی ریل کو ہمناآباد ے چلایا جائے گا ،بیدر یشونت پور کو براہ ہمناآباد سے روانہ کیا جائے گا،دہلی ،ممبئی کو جانے والی ریل گاڑیو ں کا رُخ موڑتے ہوئے اس لائین پر سے گذار جائے گا مگر دس سال بیت جانے کے بعد بھی یہ وعدے وفاء نہیں ہو سکے ہیں ،جس کی ایک اور سب سے بڑی وجہہ یہ ہے کے اس نئی ریلوئے لائین کو برقی لائین میں تبدیل نہیں کیا گیا ہے گلبرگہ کے سلطان پور تا بیدر کے خانہ پور تک کرنٹ لائین کا کام ابھی تک برفدان کی نظر ہوا ہے جس کی بناء پر اس لائین پر سے کوئی بھی بڑی ریل گاڑی یا مال گاڑی نہیں گذر پار ہی ہے کیونکہ موجودہ وقت میں زیادہ تر ریل گاڑیاں ڈیزل سے نہیں بلکہ کرنٹ سے چلائی جا رہی ہیں اور اس لائین پر کرنٹ کی سہولت نہیں رہنے کی وجہہ سے کوئی نئی ریل گاڑی اس لائین پر چلانے سے محکمئہ ریلوئے بھی قاصر ہے ۔اس نئی ریلوئے لائین کو بنانے کا مقصد یہی تھا کے دہلی اور ممبئی کے سفر کے درمیان لگنے والے وقت کو گھٹایا جائے جس سے محکمئہ ریلوئے کو پیسے کی اور مسافرین کو وقت کی بچت ہوگی مگر آج دس سال بیت جانے کے بعد بھی یہ لائین منتخب عوامی نمائندئوںاور محکمئہ کی لاپرواہی کے باعث ترقی کرنے سے قاصر ہے کروڑوں روپیوں کاخرچ کرنے کے بعد اس سے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا ہے ۔د س سال بیت جانے کے بعد بیدر ضلع کی عوام کو اس لائین پر صرف ایک نئی ریل بیدر یشونت پور کی سوغات ملی ہے وہ بھی ہفتہ میں صرف ایک دن یشونت پور سے اور ایک دن بیدر سے چلائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعطیلات میں ہفتہ واری کچھ خصوصی ریل گاڑیا ں بھی چلائی گئی ہیں ۔علاقہ حید رآباد کرناٹک کی ترقی کے لئیے بیدر تا بنگلور(براہ ہمناآباد) روزانہ، گلبرگہ تا ممبئی براہ ہمناآباد ، کے لئیے نئی ریل گاڑیوں کی شروعات کی جائے اور بیدر تا مچھلی پٹنم ریل ،بیدر حیدرآباد انٹرسٹی کو گلبرگہ سے چلایا جائے توہمناآباد کی عوام کو اس کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ،مگر یہ سب باتیں تبھی ممکن ہے جب اس ریلوئے لائین کوبرقی لائین میں تبدیل کیا جائے ۔اس ضمن میں ہمناآباد کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سدھو پاٹل بیدر کے رکن پارلیمان و مرکزی وزیر بھگونت کھوباء،بیدر ضلع کے نگران وزیر ایشور کھنڈرے،وزیر رحیم خان کو چا ہئیے کے وہ اس جانب اپنی خصوصی توجہ دیں اوربیدر ضلع کی عوام کو یہ سہولتیں فراہم کریں جو کے یہاں کی عوام کا حق ہے۔
