ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی یوپی
رات دن انگلیوں پر نچاتے ہو تم
پیار میں اتنا کیوں ظلم ڈھاتے ہو تم
ساتھ میں زندگی لے کے آتے ہو تم
موت ہوتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
ہوتی ہیں قیمتی موتیاں دستیاب
اے مرے یار جب مسکراتے ہو تم
صاف کہدو کہ ملنا نہیں چاہتے
اس قدر کیوں بہانے بناتے ہو تم
آنکھوں سے آنکھیں کیا مل گئیں دو گھڑی
دل کی گہرائی میں اترے جاتے ہو تم
کون سی مجھ سے آخر خطا ہوگئی
کس لئے مجھ کو اتنا ستاتے ہو تم
پہلی پہلی توجہ کا مشکور ہوں
ورنہ خاطر میں کب مجھ کو لاتے ہو تم
اک عجب سی مہک سے ہے بھرتا دماغ
مجھ کو جب بھی گلے سے لگاتے ہو تم
