تربیتی اجتماع منعقدہ مسجد تعلیم نورخاں بیدر سے اقبال الدین انجینئر کا خطاب

بیدر۔ 6؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): حضرت امام حسن ؓ نے فرمایاکہ بدترین حاکم وہ ہے جواپنے مخالفوں کے سامنے بزدل ثابت ہو۔ اور نامردی دِکھائے ۔ اور کمزوروں کے سامنے جرأت کا مظاہرہ کرے ۔ محرم کی فضیلت یہ ہے کہ محرم حرمت والا مہینہ ہے۔ جوحاجیوں کے وطن واپسی کے سفر کی وجہ سے ہے۔ 10؍محرم کوعاشورہ کے دن کی فضیلت اس لئے ہے کہ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کوفرعون کے مظالم سے نجات ملی تھی۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے اللہ سے تشکر کے اظہار کے لئے دوروز ے ’ عاشورہ اوراس سے ایک دن پہلے یابعد‘ رکھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب اقبال الدین انجینئر .B.E.M.I.E نے مسجد تعلیم نورخاں بیدر کے تربیتی اجتماع میں کیا۔

موصوف نے اپنے خطاب میں آگے کہاکہ ماہ ِ محرم اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کے لئے جس دِن ہجرت شروع کی تھی، اسی مناسبت سے ہجری کاپہلا دن قرار دیاگیا۔امسال کے ماہ محرم سے 1446ہجری شروع ہوچکی ہے۔ ہجرت کے دن سے اسلامی کیلنڈر کو شروع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہجرت ایک ایسا واقعہ ہے ، جس سے دین کاغلبہ اور انبیائے کرام کی نصرت کا آغاز ہوتاہے۔ یومِ عاشورہ 61 کو اسلامی تاریخ میں ایک ایسا ناگہانی واقعہ پیش آگیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا اس واقعہ کو اب تک یادرکھتی ہے۔ اور وہ واقعہ پیارے نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا ہے۔

جناب اقبال الدین انجینئر نے حضرت امام حسین ؓ کی زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ امام حسین ؓ مدینہ میںپیداہوئے اور نبی کریم ﷺ نے آپ ؓ کو تعلیم وتربیت سے نوازا۔ حضرت علی ؓ اور بی بی فاطمہ ؓ نے آپ ؓ کو ہرعلم وعمل سے روشناس کرایا۔ نانا حضورکے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعدایک دن آپ ؓ مدینہ میں اپنے روزمرہ کے کا م میں مصروف تھے کہ بادشاہ ِ وقت یزید کے گورنر نے آپ کویزید کایہ پیغام سنایاکہ آپ ؓ یزید کی بیعت کا اعلان کریں ۔ حضرت حسین ؓ نے خلافت راشدہ سے ملوکیت حاضرہ اختیارکرنے پریزیدکے ہاتھ پر بیعت نہ کرنے کااعلان کردیا۔ مکہ روانہ ہوئے۔ کوفہ کے لوگوں کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ ؓ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کردیاہے۔ اور مکہ میں مقیم ہیں ۔آپ ؓ سے اصرارکرنے لگے کہ کوفہ آئیں، ہم آپ پر بیعت کرکے آپ کو خلیفہ بنائیں گے۔ کوفہ والوں کے اصرار پر آپ ؓ اپنے اہل خاندان اور دوست احباب جو کل 72افراد پر مشتمل تھے، کوفہ کے لئے سفر شروع کیا۔ جس کی خبریزید کے کارندوں تک پہنچ گئی۔ چار ہزارکی فوج لئے آپ کا کربلا کے مقام پر گھیراؤ کیاگیا۔اور آخرکار 10؍محرم الحرام یومِ عاشورہ کے دن 61ھ آپ ؓ کے ساتھ ساتھ تمام مردحضرات کو شہید کردیاگیا۔ دنیاوالوں کو یہ خبر آپ ؓ کی بیٹی بی بی زینب ؓ نے دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے