(میرؔ بیدری کی سالگرہ 2؍اگست کے حوالے سے)

فرید سحر، حیدرآباد (تلنگانہ)
ریاست کرناٹک کے تاریخی شہر محمد آباد بیدرسے تعلق رکھنے والے ممتازومعروف شاعر، ادیب ، نقاد ، صحافی وافسانہ نگار جناب محمد یوسف رحیم بیدری المعروف بہ میرؔبیدری صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انہیں بلاشبہ ایک ہمہ پہلو شخصیت کہاجاسکتاہے۔ اُن کاقلم بہت زرخیز ہے۔ نثرونظم کے میدان میں ان کااشہب قلم بہت سلیقے سے دوڑتاہے۔ نثری طویل افسانے ہوں یامختصر افسانچے ، ہردوصنف میں انھوں نے تہلکہ مچادِیاہے۔ جن کوپڑھنے کے بعد قارئین نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیںبلکہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ میدانِ شاعری کے تووہ بہت اچھے شہسوار ہیں۔ شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرنا یاکلام کہنا گویا ان کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔ چنانچہ ریاست کرناٹک کے علاوہ ملک بھرمیں وہ شہر بیدر سے نمائندگی کاحق اداکرتے آرہے ہیں۔
جناب میرؔبیدر ی سے احقر کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب آج سے کوئی پندرہ سال قبل تاریخی شہر بیدرمیں شاندار ’’بیدراُتسو‘‘ یعنی ’’جشن ِ بیدر‘‘ کاانعقاد عمل میں آیاتھا ۔ جس میں ایک کل ہند مشاعرے کے انعقاد میں جناب میرؔبیدری نے بہت اہم اور کلیدی رول اداکیاتھا۔ شہر حیدرآباد فرخندہ ء بنیاد کے ممتازومعروف شاعر، ادیب اور ناظم مشاعرہ جناب قدیر انصاری مرحوم کے توسط سے مجھے بھی مشاعرہ پڑھنے کاموقع ملاتھا (جس میں راحت اندروی بھی شریک تھے )میرؔصاحب کی اہم مصروفیات کے باعث ملاقات مختصر رہی لیکن بعد ازاں بذریعہ ٹیلی فون اُن سے نصف ملاقات کا سلسلہ تادمِ تحریری جاری ہے۔ وہ ایک سلجھے ہوئے صاف وشفاف ذہن کے حامل معتبر لب ولہجہ کے ممتازومعروف شاعر وقلمکار ہیں۔ ان کی نثرونظم کے مطالعے سے قاری کو یہ محسوس کرنے میں کوئی دِقّت نہیں ہوتی کہ وہ ایک کٹّر مذہبی مزاج کے حامل انسان ہیں ۔ اور جب کوئی شاعر، ادیب ونقاد مذہب کاخاص خیال رکھتاہے تو اس کی تخلیقات میں مثبت اثر پید اہونالازمی ہے۔ چنانچہ ان کی تخلیقات کو ہمارے سماج اور سوسائٹی کے تعلیم یافتہ حضرات وخواتین بہت شوق اور اہتمام سے پڑھتے ہیں۔ اور بے پناہ دادوتحسین کانذرانہ پیش کرتے ہیں۔ حمدباریء تعالیٰ ہوکہ نعت شریف ، مناجات ہوں کہ منقبتی کلام اور نظمیں ہوں کہ غزلیات ، ان کاکلام قارئین کومتاثر کئے بغیر نہیں رہتا۔ ذیل میں جناب میرؔبیدری کے حمدیہ ، نعتیہ اور نظم وغزلیہ اشعار پیش کئے جارہے ہیں ، جن کوپڑھنے کے بعد معزز قارئین احقر کے ٹوٹے پھوٹے احساسات سے ضرور اتفاق فرمائیں گے ۔ حمدیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
میرایہ دربار اُسی سے ہے
میں، میرا گھر بار اُسی سے ہے
سندر سے سندر سپنے والا وہی تو ہے
میری نیندوں کودینے والا وہی تو ہے
نام لیتے ہی نور رہتاہے
دل میںمولیٰ ضرور رہتاہے
زمین اور آسماں عظیم ہے
خدایا تیری کہکشاں عظیم ہے
ان حمدیہ اشعار کے ذریعہ جناب میرؔبیدری نے اللہ رب العزت کی وحدانیت ، عظمت اور بندوں کے تئیں اس کی محبت کو کس خوبصورتی کے ساتھ واضح کیاہے ، سبحان اللہ ۔
جناب ِ میرؔکانعتیہ کلام بھی اپنی مثال آپ ہے۔ عشقِ نبی ﷺ میں ڈوب کرکہے گئے اشعار پڑھنے سے قاری پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
آپ کی سیرت پڑھی ہے میں نے میرے مجتبیٰ ؐ
زندگی پانے کی خاطر اور شفاعت کے لئے
آپ کے نام کی ہونٹوں پہ یوں گردان رہے
جس طرح جام پہ ایک پیاسے کاایمان رہے
کس طرح ہمیں لوگو! حضرت نے سنبھالاہے
جو بھول ہوئی ہم سے ، اس کوبھی بھلایا ہے
آپؐ کے ساتھ رہوں میں بھی سدا جنت میں
کون چاہے گاکہ حوراں رہے ، غلمان رہے
جناب میرؔبیدری ایک استاد شاعر کی حیثیت سے بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی غزلیں بھی اپنے قارئین کو بے حد متاثر کرتی ہیں۔ گل وبلبل کے قصے یاعشق ومحبت کی داستان کے یہ قائل نظر نہیں آتے۔ ہاں’’ مسائلی شاعری ‘‘جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔ چند اشعار ان کے مجموعہ کلام ’’کرہ ‘‘ اور ’’رقص‘‘سے ملاحظہ فرمائیں ؎
اپنی اپنی ہمت ہے ، اور اپنی اپنی عادت ہے
ہم نے فضا میںچھوڑے کبوتر ، دوجے نے ترشول دِیا
اندھیروں کوبڑھایاجارہاہے
دِیوں کوآزمایاجارہاہے
ربط کو روکنا ضروری ہے
ضبط کا حوصلہ ضروری ہے
زندگی ایک شعر ہے لیکن
شعرکاتجزیہ ضرور ی ہے
آنکھ کی راہ سے دِل میں وہ بَس گئے
مَلنے والے سداہاتھ مَلتے رہے
گفتگو چاہتوں کی ہوہر دَم
شاعروں کو سُنا کرو لوگو
بہرکیف جناب میرؔبیدر ی کی شاعری کاکینوس بہت وسیع ہے۔ مکمل تجزیہ اور تبصرہ کے لئے کئی صفحات درکار ہیں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں ناکہ چاول کے صرف ایک دانہ کومت کر دیکھنا کافی ہے ، جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ خشکہ پک گیا۔ اسی طرح میرؔصاحب کاکلام شائستہ اور پروقار اہمیت کاحامل ہے۔ ناچیز دُعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ادبی وشعری سفرکو جاری رکھے اور صحت وعافیت کے ساتھ انہیں عمر طویل عطا فرمائے ۔ آمین ۔
