حبيب اللہ التیمی

دنیائے انسانیت میں بود و باش اختیار کرنے والا ہر فرد بشر جو رب کی وحدانیت اور رسول کی رسالت پر ایمان رکھتا ہے اس بات سے بدرجہ اتم آشنا ہے کہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی بنیاد شریعت کے دو مصدر اساسی قرآن و سنت پر قائم ہے،ان دونوں سے سر مو انحراف کی صورت میں دعوتی جدوجہد اور تبلیغی کوشش افراط وتفریط کی شکار ہو جاتی ہے، جو بہر نوع دعوت و تبلیغ کے مجال میں ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ دعوت دین کا اسلوب، معیار،اور اس کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے یہ نادر کلمات منظر عام پر آئے ہیں کہ:’’تركت فيكم أمرين، لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة نبيه‘‘ اس حدیث رسول پر نظر تدبر ڈالنے کے بعد یہ حقیقت طشت از بام ہوتی ہے کہ جو شخص کتاب و سنت کی روشنی میں سفر حیات طے کرے گا، کتاب و سنت کی روشنی میں اپنے مسائل کو حل کرے گا، کتاب و سنت کی روشنی میں درپیش مشکلات سے نبردآزما ہونے کی کوشش کرے گا، کتاب و سنت کی روشنی میں کسی معاشرے کو تشکیل دے گا، کتاب و سنت کی روشنی میں وحدت امت کے لیے کوشاں رہے گا اور کتاب و سنت کی ہی روشنی میں دعوت دین کا فریضہ انجام دے گا تو گمراہی کے تمام تر امکانات ناپید ہو جائیں گے اور رشد و ہدایت کی راہ روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔اس کے بر عکس گر کتاب و سنت کو برطرف کرتے ہوئے اصلاح معاشرہ کی کوئی بھی کوشش کی جائے گی، لوگوں میں دینی تربیت کا عمل انجام دیا جائے گا اور دین کے نفاذ کی بات ہوگی تو پھر معاشرہ کبھی بھی صالحیت کا لباس زیب تن نہیں کر پائے گا اور نہ ہی دینداری کی اس میں شمع روشن ہوگی،کیونکہ کتاب و سنت سے خوشہ چینی کیے بغیر دین کے نام پر جب کوئی بھی تحریک اٹھے گی تو اس کا مقدر ناکامی سے دوچار ہونا ہی ہوگا۔اور ہم سب کا آئے دن کا مشاہدہ بھی ہے کہ دین کے نام پر متعدد تحریکیں عہد قدیم سے لیکر ہنوز سرگرم عمل ہیں،لیکن ان کی جانب سے کوئی بھی قابل ستائش نتیجہ اہل دنیا کو مسرت و شادمانی کا سامان فراہم نہ کر سکا اور کیسے کر بھی پائے گا جبکہ اس تحریک کی بنیاد میں کتاب و سنت کی اینٹ کا نہ کوئی وجود ہے اور نہ ہی سلف صالحین کے منہج کی کوئی کرم فرمائی ہی۔
واضح رہے کہ اسلام میں بدعت کو امر حرام اور جہنم تک پہنچانے والا عمل بتایا گیا ہے اور جو بھی شخص اس کا ارتکاب کرتا ہے یا پھر ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو ارتکاب بدعت میں شب و روز منہمک رہتے ہیں تو ایسا شخص اللہ کی نظر میں مبغوض ترین آدمی ہے اور ایسے لوگوں سے بروز قیامت عمل بدعت کے فروغ پر باز پرس ہوگی۔اس کار بدعت کے فروغ میں زیادہ تر ان خطبا، مقررین اور واعظین کا کردار ہوتا ہے جو کتاب و سنت کی زبان سے نابلد اور کتاب و سنت کو سمجھنے والے علما کے منہج سے نا آشنا ہوتے ہیں، ان واعظین کا مقصد وحید عوام الناس کے جم غفیر میں دین کے نام پر کچھ بھی پروس کر سستی شہرت کا حصول ہوتا ہے،کتاب و سنت سے متصادم واقعات جن کا انتساب بزرگوں کی جانب ہوتا ہے اسے پرکشش انداز میں پیش کرتے ہوئے سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں اور دین مخالف نظریات سے لوگوں کے اذہان و قلوب کو تاریک کر دیتے ہیں۔کوئی بیان کرتا ہے کہ فلاں بزرگ آتے ہیں اور فلاں مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے اسی نشان زد مقام پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دیتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ پورے سمندر کو ایک کوزے میں بند کر دیتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ بعد از مرگ اپنے خویش و اقارب اور عقیدت مندوں سے بغرض ملاقات تشریف لاتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ان کے سارے مرید جنت میں نہ چلے جائیں تب تک وہ باب جنت پر قدم نہیں رکھیں گے،کوئی کرامت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ کی نگاہ تبلیغ جس جانب ملتفت ہو گئی اس جانب کے سارے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو گیے، کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ محو نماز ہیں، گاڑی چلنے کو تیار ہے، ڈرائیور کوشاں ہے، گاڑی کو بذریعہ چابی حرکت دیتا ہے، لیکن گاڑی چلنے کو تیار نہیں ہوتی ہے، بزرگ نماز سے فارغ ہوتے ہیں تب گاڑی اپنی منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہوتی ہے،کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ نے اپنے جنازے کی نماز خود ہی پڑھائی تھی اور کوئی کہتا ہے کہ فلاں بزرگ تختہ غسل پر مسکرا دیتے ہیں۔
ان جھوٹے واقعات اور مبنی بر غلط خبروں کے انتشار کے ذریعے دعوت دین کا جو کام نام نہاد مبلغین کر رہے ہیں اس سے امت مسلمہ میں بدعقیدگی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، بدعت کی راہ ہموار ہو رہی ہے، لوگ شریعت مخالف عمل کی انجام دہی میں جری ہوتے جا رہے ہیں،رسوم و رواج بسرعت ظہور میں آ رہے ہیں،شریعت سے دوری اور غیروں کی اندھی تقلید کا نفس پرست مزاج تیزی سے مسلمانوں کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے، بچے اور بچیاں دین سے بیزار اور مغربی تہذیب کے دلدادہ ہوتے جا رہے ہیں، تمام شعبہ حیات میں اسلام بیزاری کے مظاہر نمایاں ہیں، تجارت و زراعت سے لیکر دیگر امور میں اسلامی تعلیمات کی حکمرانی عنقا ہے، شادی بیاہ میں فضول خرچی عام ہے اور دیگر برائیاں اپنے شباب پر ہیں، لیکن یہ حساس موضوعات ان کی گفتگو کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ لوگوں کی توجہ کو ان تمام چیزوں سے ہٹا کر مسلکی تشدد کو ہوا دینے، نفرت کا بازار گرم کرنے اور دین کے نام پر بدعت کا سامان فروخت کرنے کے لیے ان کی زبانیں اپنی تمام تر فتنہ انگیزیوں کے ساتھ محو گفتگو رہتی ہیں جن پر قوم و ملت کے مخلص مبلغین کو بر وقت اقدام کرتے ہوئے ان کی زبان بندی کے لیے کوئی لائحہ عمل پیش کرنا چاہیے، تاکہ اس فتنہ سامانی سے سادہ لوح عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اگر اس پہلو کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تبلیغ کا کام نہیں کیا گیا اور لوگوں کے اذہان و قلوب میں کتاب و سنت کی محبت اور جھوٹے واقعات اور من گھڑت قصوں کی قباحت و شناعت نہیں بھری گئی تو پھر تبلیغ دین کا فریضہ تشنہ تکمیل رہے گا اور شیطان صفت لوگ گمراہی کی تاریکی سے ہدایت کو رشنی کو بے رونق کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے جو کسی بھی اسلامی معاشرے کے لیے فال نیک نہیں ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے