میرؔبیدری ، بیدر، کرناٹک

موبائیل چلانا بھی آسان نہیں
جیب ہے لیکن یاں کوئی دھنوان نہیں

رات کو سوجاتاہوں ، مرنے پہ کیاہوگا؟
گھرتوبہت ہیں بستی میں شمشان نہیں

روح کو کرتاجاتاہوں محسوس یہاں
دیکھ کے تجھ کو مچلیں وہ ارمان نہیں

مندر دیکھے اور بھگوان کودیکھ لیا
دِل کے مندر میں دیکھابھگوان نہیں

جس کو اوپر والا کہتے ہیں سب لو گ
مجھ سے نا واقف ، تجھ سے انجان نہیں

پوچھ رہاہے پاگل ، مجھ کو کھلاناہے
شہر میں ایسا کوئی دسترخوان نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے