سردار ایاغؔ، بنگلورو

حق کی یلغار اب بھی زندہ ہے
ابنِ کرارؓ اب بھی زندہ ہے

آرزو تھی اسے شہادت کی
اُس کا اظہار اب بھی زندہ ہے

اُس کی خوشبو فضاؤں میں ہے ابھی
اُس کی للکار اب بھی زندہ ہے

اُس کی انگلی سے جو تراشا گیا
وہ ’’خبردار‘‘ اب بھی زندہ ہے

اُس کو موسیٰ ؑ نے بخش دی تھی چھڑی
جس کا اک وار اب بھی زندہ ہے

مرگیا ہے ضمیرِ اسرائیل
یحییٰ سنوار اب بھی زندہ ہے

بچ نہیں سکتا کوئی ظالم ایاغؔ
غیب کی مار اب بھی زندہ ہے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے