رضوان احمد رضوان، بیجاپور
رحمت منزل،پلاٹ نمبر، 174، شئیر شٹّی کلاونی
نزد یاسین مسجد، بیجاپور، کرناٹک
انسان کی تربیت میں اس کے والدین کے علاوہ سماجی عوامل بھی شامل ہیں۔ مذہب انسان کو اچھے برے کی پہچان کراتا ہے اور جب انسان اپنی زندگی اچھائیوں پر عمل کرتے ہوئے گزارتا ہے تو وہ ملک اور قوم کے لیے مثال بن جاتا ہے، اس کے برعکس اگر وہ زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو وہ قوم و ملت کے علاوہ اپنے ملک کو بھی شرمسار کر دیتا ہے، جسے معاشرہ کبھی معاف نہیں کرتا۔ آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ موبائیل گیمز میں جنون کی حد تک پھنسنے والے نوجوانوں کو اپنی ذمہ داری، اخلاقی اقدار اور اپنے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ کئی نوجوان انٹرنیٹ پر کھیلے جانے والے جوئے پر شب و روز قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ اپنا اور گھر والوں کا پیسہ برباد کر رہے ہیں۔جس کا نتیجہ سوائے بر بادی کے کچھ نہیں۔ ایسے کئی مثالیں منظر عام پر آچکے ہیں، پھر بھی نوجوان کا ایک طبقہ ایسا ہے جو بعض نہیں آتا۔
شنکرپّا محکمہ ء پولیس میں تقریباً 25 سال سے خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ تقریباً 25 تا 30 پولیس کا عملہ تھا۔شنکرپّا ہی تمام پولیس والوں میں سینئر حوالدار تھا۔ اپنے پولیس اسٹیشن میں اس کی کافی دھاک اور اثر و رسوخ تھا۔ اس نے ضلع یس پی سے لے کر کمیشنر اور منسٹر تک اپنے روابط بنائے رکھے تھے۔ ایک مرتبہ اس کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا تو اس نے اپنے اثر و رسوخ سے اپنے تبادلہ کو رد بھی کروا لیا تھا۔ اسے قوی امید تھی کہ وظیفہیابی سے پہلے اس کے کندھے پر ایک ستارہ ضرور لگے۔ جس قصبے میں شنکرپّا رہتا تھا اس قصبہ میں قریب قریب سات ہزار لوگوں کی آبادی تھی جہاں ہر ایک چھوٹا بڑا شنکرپّا کو جانتا تھا۔ تقریباً 25 سال سے وہ یہیں رہ رہا تھا۔ اس نے یہاں زمین بھی خریدی اور اچھا سا گھر بھی بنوا لیا۔جہاں وہ اپنی بیوی شاردہ اور اپنے بچوں کے ساتھ خوشی سے رہ رہا تھا۔ شنکرپّا کو مسلسل تین لڑکیوں کے بعد اللہ نے آٹھ سال کی لمبے عرصے کے بعد دو لڑکے بھیعطا کیے تھے۔ زندگی ہنسی خوشی سے گزر رہی تھی۔ مسلسل تین لڑکیوں کی پیدائش پر شروع شروع میں وہ اپنی بیوی شاردہ سے ناخوش تھا لیکن دو لڑکوں کی پیدائش کے بعد بالکل بدل گیا۔اسے اپنے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں سے بھی بے حد پیار تھا۔ اس کے اس رویہ سے شاردہ بھی بے حد خوش رہنے لگی تھی۔ گھر میں اس کو کسی قسم کی تکلیف نہیں تھی۔ شنکرپّا کو جب بھی کام سے چھُٹی ملتی وہ اپنا پورا وقت بیوی اور بچوں کے ساتھ میں گھر میں گزارتا۔لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی بھی فرمائشیں پوری کرتا۔ بڑی بیٹی بارویں جماعت پاس کر چکی تھی۔ اسی اثنا ء میں اس کے لیے شادی کا رشتہ آیا ۔لڑکا شعبہء ایگریکلچر میں سیکنڈ ڈویژن کلرک تھا۔شنکرپّا کو رشتہ بہت پسند آیا،تھوڑی سی تحقیق کے بعد اس نے فوراً شادی طئے کر دی۔ قدرت شنکرپّا پر مہربان تھی کیونکہ بڑی بیٹی کی شادی میں آئے ہوئے مہمانوں میں سے ایک نے شنکرپّا کی دوسری بیٹی’ انجلی’ کو بھی پسند کر لیا تھا۔ شنکرپّا پھولے نہیں سما رہا تھا۔ بڑی کی شادی کے تقریباً تین ماہ بعد دوسری بیٹی انجلی کی بھی شادی کر دی۔ تیسری بیٹی ‘رینو ‘ پڑھائی میں دلچسپی رکھتی تھی، اسے سافٹ ویئر انجینئرنگ بننا تھا، شنکرپّانے اس کے اس شوق کو جلا بخشی اس نے اپنے خیر خواہ سے مشورہ کر کے اس کا داخلہ انجینئرنگ کالج میں کروایا۔رینو نے اپنے والد کے بھروسے کو قائم رکھا اور دیکھتے دیکھتے چار سالہ کورس بھی مکمل کر لیا۔کالج کیمپس میں ایک نامور کمپنی میں اس کا انتخاب سافٹ ویئر انجنیئر کے طور پر ہو گیا۔جس کے چلتے وہ بنگلور چلی گئی۔
شنکرپّا کو اپنے بڑے بیٹے منوج سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔مگر شنکرپّا اور شاردہ کے بے جا لاڈ اورپیار نے اسے لاپروہ اور نالائق بنا رکھا تھا۔ اب جا کے ان دونوں کو اس بات کا احساس ہونے لگا تھا، منوج نیمیٹرک میں دو سال ناکامیابی کے بعد تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔شنکرپّاچاہتا تھا کہ منوج بھی اُس کی طرح پولیس بن جائے۔لیکن منوج اپنے مستقبل سے بے خبر دن رات کی آوارگی اور موبائل گیم میں مشغول رہنا پسندکرتا تھا۔ کسی کی نصیحت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بڑی بہن نے اس کی ان حرکات پر کئی مرتبہ ڈانٹ لگائی مگر منوج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایک دن شنکرپّانے اپنی بیوی شاردہ سے منوج کو راہِ راست پر لانے کی فکر میںدورانِ گفتگو کہا،” آج سے میں منوج کے لیے دی جانے والی پاکٹ مَنی کو بند کر دوں گا۔ اس پر شاردہ نے بھی حامی بھر لی۔ایسے کئی تدابیر اختیار کئے جانے کے باجود بھی منوج میں کوئی تبدیل نہیں آئی۔ منوج بارویں جماعت کے سالِ دوم کا طالب علم تھا اور امتحان سر پر تھی لیکن منوج کو موبائل گیم سے فرصت ملے تو کالج کی پڑھائی پر توجہ دیتا۔ اب اس کی عمر 19 سال کی تھی مگر اسے کسی قسم کی ذمہ داری کا احساس نہیں تھا۔ شنکرپّا کو بھی اپنی ڈیوٹی سے سبکدوش ہونے میں محض پانچ سال باقی تھے۔ وہ بڑا فکر مند رہنے لگا ،وہ چاہتا تھا کہ وظیفہیابی سے قبل اس کا بڑا بیٹا منوج بسر روزگار ہو جائے۔ایک دن شام کے وقت تھکا تھکا شنکرپّاگھر لوٹا تو شاردہ اسے دیکھتے ہی فوراً دروازے پر پہنچ کر اس کی ٹوپی اور ہاتھ سے ترکاری کی تھیلی لیتے ہوئے اس کے چہرے کا بغور معائنہ کرنے لگی اور اسے لگا کہ شنکرپّا کسی بات کو لے کر بہت فکر مند ہے۔ شنکرپّاحمام خانے سے منہ ہاتھ دھو کر گھر کے ہال میں آبیٹھا اور منوج کے تعلق سے دریافت کرنے لگا تو شاردہ نے اس کو تولیہ دیتے ہوئے ہوئے کہا کہ” ٹیوشن گیا ہوا ہے۔” اتنا کہہ کر وہ شنکرپّا کے لیے چائے لینے باورچی خانے چلی گئی۔ شنکرپّا نے چائے نوش کرتے ہوئے شاردہ سے کہا۔” شاردہ۔۔! کیوں نہ ہم منوج کی شادی کر دیں۔۔؟ میرا خیال ہے وہ شادی کے بعد سنبھل جائے گا۔ کیوں۔۔۔؟ تمہارا کیا کہنا ہے۔” شاردہ نے جواب میں کہا ۔۔اجی۔۔۔کون ہمارے نکمے اور لا پروہ بیٹے کو لڑکی دے گا۔۔۔؟۔۔اب وہ زمانہ نہیں رہا جی۔۔۔ پہلے محض گھر بار دیکھ کر شادیاں ہوا کرتی تھیں۔۔ اب ماحول بدل گیا ہے۔۔”اس پر شنکرپّا نے حسرت آمیز انداز میں کہنے لگا۔۔۔۔”شاردہ میں منوج کا گھر بستے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔پتہ نہیں اوپر والے نے میری نصیب میںیہ دن دیکھنے میں لکھا ہے یا نہیں۔۔۔ بھگوا ن ہی جانے۔۔۔ شنکرپّا کی باتوں سے شاردہ کا دل بھر آیا اور شنکرپّا کی آنکھوں میں بھی آنسو بہنے لگے، جسے دیکھ شاردہ بھی جذبات میں بہہ گئی۔ شنکرپّا اپنے آپ میں بڑ بڑاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ کب منوج اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔۔۔ کب اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہو جائے گا۔۔۔ کیا ہم دونوں وہ دن دیکھنے کے لیے زندہ بھی رہیں گے یا نہیں۔۔۔؟ شاردہ، شنکرپّا کو سمجھانے لگی۔۔۔” نہیں جی۔۔۔ آپ دل چھوٹا نہ کریں، بھگوان ضرور ہمارے منوج کو راہ راستہ پر لائے گا۔۔۔ دیکھنا آپ۔۔! چلیے،آپ پہلے تھوڑا آرام کرلیں، میں آپ کے لیے گرم گرم روٹیاں بنا لیتی ہوں، جب تک منوج اور چھوٹا آدتیہ بھی ٹیوشن سے آ جائیں گے۔پھر ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے۔۔۔” شنکرپّا آرام کرنے کی غر ض سے ہال کے صوفے پر بیٹھ گیا، وہیں اس کی آنکھ لگ گئی۔ شاردہ باور چی خانے میں پکوان میں مشغول تھی۔ منوج اور آدتیہ بھی ٹیوشن سے فارغ ہو کر گھر پہنچ چکے تھے۔ اتفاق سے گاؤں سے بڑی بھی بیٹی بھی آئی ہوئی تھی، جو باورچی خانے میں ماں کی مدد کر رہی تھی۔ رات کا پکوان پک کر تیار ہو چکا تھا، دونوں بیٹے ٹیوشن سے گھر پہنچ چکے تھے۔ شاردہ نے شنکرپّا کو آہستہ سے آواز دے کر نیند سے جگایا۔ کھانا لگ چکا تھا ۔ شنکرپّا نے اٹھتے ہی فوراً منہ ہاتھ دھوکر اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ کھانے کے لیے شامل ہو گیا۔یہ دیکھ بڑی بیٹی بہت خوش تھی اور تمام کو کھانا پروس رہی تھی۔ کھاتے وقت شنکرپّااپنے بیٹے منوج کا بغور جائیزہ لے رہا تھا۔دل ہی دل میں وہ اپنی بیٹے کی خد و خال دیکھ کر رشک کر رہا تھا۔ اسے اس بات بے انتہا خوشی ہو رہی تھیکہ منوج واقع میں گَبْرُو جوان نظر آرہا تھا،لیکن اس کی نافرمانی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ سے بھی وہ بہت نالاں تھا۔کھانے سے فارغ ہونے کے بعد منوج کسی فرمانبردار بچے کی طرح برتن اٹھا کر باورچی خانے میں اپنی بہن کی مدد کر رہا تھا۔ شنکرپّا بھی اٹھ کر ٹہلنے کے لیے گھر کے باہرآنگن میں چلا گیا اور منوج بھی پڑھائی کے لیے اپنے کمرے میں چلا گیا، کیونکہ امتحانات سر پر تھے۔ شاردہ باورچی خانے کا سارا کام نپٹا کر ہال میں آئی تو دیکھا کہ شنکرپّا حسبِ معمول صحن میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ شاردہ بھی اس کے ساتھ چل قدمی میں شامل ہو گئی۔ صبح شنکرپّا کو جلد تھانے جانا تھا اس لیے اس نے شاردہ سے
کہا کہ صبح اسے جلد اٹھائے، چونکہ منسلکہ ضلع میں منسٹر کی آمد ہیاور منسٹر کے سیکیورٹی کے انتظامات تمام تر اس کے ذمہ ہے۔ ایسی ذمہ داری جب بھی اسے دی جاتی وہ بہت چوکنا ہو کر انجام دیتا تھا۔اس رات شنکرپّا اپنے کمرے میں جانے سے پہلے نہ چاہتے ہوئے بھی منوج کے کمرے میں چلا گیا مگر وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ شنکرپّااسے ڈھونڈتے ہوئے سیڑھیوں سے ہوتا ہوا چھت پر چلا گیا۔۔ دیکھا تو۔۔۔ نیم اندھرے میں، منوج وہاں امتحان کی پڑھائی کے بجائے موبائل گیم میں مصروف تھا۔ یہ دیکھ کر شنکرپّا کے غصّہ کا پارہ چڑھ گیا ، اس نے اپنی رعب دار آواز میں منوج کو چلا کر کہا۔”تمہیں اپنے مستقبل کی ذرا بھی فکر نہیں، امتحان سر پر ہیں۔ امتحان کی تاریخ کا بھی اعلان ہو چکا ہے۔ کم سے کم تو اس کی فکر کرتے۔۔۔ائے بھگوان۔۔۔! تم نے یہ کیسی اولاد دی مجھے۔۔ یہ تو نے مجھے کس جنم کا بدلہ د یا ہے۔۔۔ یہ کیسی اولاد تو نے دے رکھی ہے۔۔۔” غصّہ میں اس نے منوج کے ہاتھ سے موبائل چھین کر زمین پر زور سے دے مارا،موبائل چکنا چور ہو گیا۔ شنکرپّا کے اس عمل پر منوج مارے غصہ کے کسی بِپَھر ے ہوئے بے لگام زخمی جانور کی طرح دوڑتا ہوا چھت سے اتر کر وہاں پہنچا، جہاں پر سیڑیوں کی نیچے کلہاڑی رکھی ہوئی تھی۔ اسے لے کر چھت پر دوڑتے ہوئے پہنچا۔۔۔ سانسیں تیز تھیں، چہرہ سرخ اور بدن کے ایک ایک عضو حیوانیت کو عیاں کررہا تھا۔اس پر شیطان پوری طرح سے حاوی ہو چکا تھا۔ وہ جس کام کو انجام دینے جا رہا تھا خود اس سے غافل تھا۔ آناً فاناً اس نے کلہاڑی اٹھائی اور اپنے باپ کے سر پر ایسا وار کیا کہ شنکرپّا کو اپنے بچاؤ کے لیے بھی وقت نہیں ملا۔ شنکرپّا گھر کی چھت پر ہی ڈھیر ہو گیا۔ سر سے خون کا ایسا فوارہ نکلا کہ جسم خون سے لت پت ہو گیا۔ اب چھت پر خون ہی خون تھا۔ منوج پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا۔ اس کی چیخیں سن کر شاردہ اور بڑی بیٹی چھت پر دوڑی چلی آئیں۔ شنکرپّا کو اس حالت میں دیکھ شاردہ اور بڑی بیٹی کے ہوش کا ٹھکانہ نہ رہا۔ شاردہ اپنے شوہر کی ایسی حالت پر چیخیں مارتے مارتے بے ہوش ہو گء۔ اس شور و غل سے گھر کے پڑوسی بھی دوڑتے ہوئے چھت پرآپہنچے۔ کلہاڑی اب تک منوج کے ہاتھوں میں جوں کہ توں تھی۔ یہ دہشت ناک منظر دیکھ سب ششدر رہ گئے۔ لوگوں نے فورا ً ایمبولنس منگوائی اور وہ زخمی شنکرپا کو لیے ضلع ہسپتال کی طرف روانہ ہوئی۔
پولیس منوج کو حراست میں لے چکی تھی۔ شنکرپّا نہیں رہا۔ شاردہ،بڑی بیٹی اور چھوٹا بیٹا آدتیہ غم سے نڈھال تھے۔ شنکرپّاکی بیٹی’رینو ‘ اور ‘انجلی ‘ کو بھی اس کی اطلاع دی گئی، وہ بھی روتے دھوتے آپہنچی۔دوسرے دن شنکرپّا کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور بعد میں لاش کو شعولوں کے حوالے کر دیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے شاردہ کی دنیا اُجڑ چکی تھی۔ شنکرپّا کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔سارے گاؤں میں ماتم تھا۔ کیا ہندو۔۔۔ کیا مسلمان۔۔۔سارے لوگ شنکرپّا کو چاہنے والے تھے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ میں منوج کی پیشی ہوئی۔جج کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا۔جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم چونکہ ابھی 19 سال کا ہے اور قتل کاکوئی ارادہ یا منصوبہ کے تحت نہیں ہوا ہے بلکہ دماغی توازن کھونے کا نتیجہ ہے۔ایسی جنونی کیفیت سماج کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔اس لیے ملزم کو ذہنی علاج در پیش ہے،اس فیصلے کے تحت اسے پولیس کی کڑی نگرانی میں مینٹل ہاسپٹل بھیج دیا گیا۔ یہ حادثہ اور جج کا فیصلہ تقریباً پورے ایک ہفتے تک اخبار ات کی سرخیاں بٹورتا رہا۔
