اُردو فاؤنڈیشن نیپال کے زیر اہتمام بہ یاد غالب بین الاقوامی مذاکرہ و مشاعرہ 

30 دسمبر۔ تولہوا۔نیپال: غالب کی شاعری زندگی کے مختلف النوع رنگ سے عبارت ہے۔ زندگی کے مختلف رنگوں کا ایک سچا شعور اور کھرا رنگ غالب کے یہاں ملتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُردو فاؤنڈیشن نیپال کے صدر جناب سحر محمود نے فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام غالب کی یاد میں منعقد بین الاقوامی مذاکرہ و مشاعرہ کے موقع پر گوتم بدھ ہوٹل، تولہوا نیپال میں کیا۔ وہ مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے غالب کی مقبولیت اور ان کی شاعری کی خصوصیات پر اظہار خیال کر رہے تھے۔اس موقع پر مشہور شاعر جناب ثاقب ہارونی نے کہا کہ غالب کی شاعری میں زبان و تہذیب کا ایک بالیدہ شعور ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غالب کی شاعری کا شمار دنیا کی بڑی شاعری میں کیا جاتا ہے۔

اردو کے معتبر ناقد ڈاکٹر عمیر منظر نے غالب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ جلسے میں موجود نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے نثر غالب کے محاسن اور ان کی شعری ہنرمندیوں پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ غالب فہمی کی بنیاد حالی نے رکھی تھی اور اس علاقے میں نیپال کی متحرک و فعال لسانی و تہذیبی تنظیم اردو فاؤنڈیشن بہ یاد غالب اس بین الاقوامی مذاکرے کے توسط سے غالب فہمی کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ ایک قابل تعریف کام ہے۔

مذاکرے کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا جس کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے کی اور صدارت ڈاکٹر جاوید کمال نے۔ اس موقعے پر اردو فاؤنڈیشن نیپال کی جانب سے شعرائے کرام کو یادگاری نشان پیش کیے گئے۔

فیس بک کے توسط سے مشاعرہ براہ راست بھی نشر کیا گیا، جسے اردو کے محبین سوشل میڈیا کے توسط سے مختلف جگہوں سے دیکھ اور سن رہے تھے اور اپنی دعاؤں سے نواز رہے تھے۔

مشاعرے میں جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اشعار بہ طور مثال قارئین کی نذر ہیں:

جس کی لو سے جل جائے پیار کا کوئی رشتہ

دیپ وہ بجھا دوں میں تو اگر اجازت دے

 ڈاکٹر جاوید کمال

بچ نکلنے کی کوئی صورت نظر اتی نہیں

آج ہے مد مقابل اک پرانا آشنا

ڈاکٹر عمیر منظر

ہمالہ پر بھی شادابی ہے ممکن

میں تخمِ عاشقی بونے لگا ہوں

ثاقب ہارونی

اشک آنکھوں میں آکے سوکھ گئے

کھل کے برسات ہو نہیں پائی

سحر محمود

کیا کہوں کتنے حوادث کے مقابل ہوا میں

تب کہیں جا کے ترے عشق کے قابل ہوا میں

ریاض قاصد

غربت کا اعلان کروگے

اپنا ہی نقصان کرو گے

شاداب شبّیری

سچ کو اب جھوٹ کے سانچے میں نہ ڈھالا جائے

کم سے کم دل سے سیاست کو نکالا جائے

پنکج سدھارتھ

کسی کے خون سے نقشہ نہیں بناؤں گا

درخت کاٹ کے رستا نہیں بناؤں گا

شیو ساگر سحر

آگ میں پھول کا کردار کہاں سے لاؤں

لذت شوخی گفتار کہاں سے لاؤں

انصر نیپالی

کم سے کم اتنا احترام کرو

جب ملاقات ہو سلام کرو

شاد حشمت

جوں جوں کیا گیا ہے مداوائے عاشقی

بڑھتا گیا ہے زخم بھی دارو دوا کے ساتھ

سراج نور

بین الاقوامی مذاکرہ و مشاعرہ کے انعقاد میں گائے چھاپ سرف، فاطمہ جویلرس، نیڈین انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز، صارم ہاسپٹل، ہدی ماڈل اسکول، نیو سٹی انٹر پرائزیز، عرفات ٹریولس اور نور عالم انٹرپرائزز کا تعاون شامل رہا۔

سامعین میں ڈاکٹر جاوید، مولانا عبد الرحیم مدنی، مولانا اطہر مدنی، جناب طاہر محمود فلاحی، رضی الدین فلاحی، ایڈوکیٹ امت کمار شریواستو، نیپالی زبان کے شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف ہری راج شرما، قیصر جمال عرف ننھے بھائی، محفوظ ریاضی کے علاوہ اور بھی کئی متعدد شخصیات شامل تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے