محمد زاہد رضا بنارسی 

دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج ۔ بھدوہی

 

یا نبی آتے ہی لب پر یہ کرشمہ ہوگیا

میرا غم ہی خود مرے غم کا مداوا ہوگیا

بدلی قسمت اور اس کا ربّ کعبہ ہوگیا

جو بھی سچّا عاشقِ شاہِ مدینہ ہوگیا

دے دیا تھا جس کو دنیا کے طبیبوں نے جواب

رحمتِ آقا سے وہ بیمار اچھا ہوگیا

اس کے گھر میں برکتوں نے کر لیا اپنا قیام

جس کے گھر میں ذکرِِ سرکارِِ مدینہ ہوگیا

دیکھ کر شق القمر بوجہل یہ کہنے لگا

ایسا تو ممکن نہ تھا پھر کیسے ایسا ہوگیا؟

 عاصیوں کا مرحبا عشقِ نبی کے فیض سے

حشر میں جنّت عطا اعمال نامہ ہوگیا

اک نگاہِ لطف سلطانِِ مدینہ کی ہوئی

قطرہ دریا ہوگیا ذرّہ ستارا ہوگیا

زندہ باد آلِ نبی پائندہ باد آلِ نبی

کربلا سے مذہب اسلام زندہ ہو گیا

معجزے تو دیکھئے ذاتِ رسالت کے جناب

سورج الٹے پاؤں پلٹا مہ دو پارہ ہوگیا

فاطمہ کے لال کا "زاہد” جسے صدقہ ملا

ظالموں کے واسطے تلوار جیسا ہوگیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے