گلبرگہ۔ 2؍جنوری(محمدیوسف رحیم بیدری): ممتاز سماجی جہدکار اور محب ِ اردو جناب خواجہ فریدالدین انعامدار مؤظف محکمہ ء پولیس کرناٹک نے ریاست کرناٹک اور دیگر ریاستوں کے سیکولراور باشعورافراد و تعلیمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہاں 3؍جنوری کو ساوتری بائی پھلے کا’’یومِ پیدائش ‘‘ ضرور منائیں۔ یہ وہی ساوتری بائی پھلے ہیں جنہوں نے 1848 میں پونہ (مہاراشٹر) میں لڑکیوں کاپہلااسکول صرف 6طالبات کے ساتھ شروع کیا۔ اس اسکول کی پہلی طالبہ فاطمہ شیخ تھیں، جو آگے چل کرخود بھی ٹیچر بنیں اور ساوتری بائی پھلے کے اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ان کی معاون ومددگار بنیں۔

جناب خواجہ فریدالدین انعامدار نے مزید بتایاکہ آج خواتین اورلڑکیوں کے لئے ہرطرف عصری اسکول ، عربی مدارس اور وومنس کالج شروع کئے گئے ہیں جس کاسہرامیں ساوتری بائی پھلے کودیتاہوں۔ یہ ان ہی کی دوراندیشی تھی کہ انھوں نے پونے دوسوسال (175سال ) پہلے ہی آج کے گرلز اسکول، مدرسہ للبنات اور وومنس پی یوکالج وڈگری کالج کی بنیاد رکھ دی تھی۔ میرے خیال میں خصوصیت کے ساتھ گرلز اسکول ، اور وومنس پی یووڈگری کالجس میں ساوتری بائی پھلے کوآج 3؍جنوری کو خصوصیت کے ساتھ طالبات اور وہاں کااسٹاف ضرور بہ ضرور یاد کرے، تعلیمی اداروں کے علاوہ سیکولراور باشعورافراد و تعلیمی تنظیموں Educational Organisations سے بھی اپیل ہے کہ آج 3؍جنوری کو ساوتری بائی پھلے کایوم ِ پیدائش مناکر انھیں خراج عقیدت پیش کریں ۔
