از: ابوشحمہ انصاری
ادبی دنیا میں جب فکر و فن کے اعلیٰ معیار کی بات کی جاتی ہے تو "پس حجاب” جیسے شاہکار اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ الفاظ کے انمول موتیوں، معانی کے گہرے سمندروں، اور جذبات کے حسین مناظر کا ایک ایسا مرقع ہے جو قاری کو حیرت و مسرت کی دنیا میں لے جاتا ہے۔
ہنی انصاری کی یہ دوسری تخلیق اپنے پہلے مجموعے "ورائے اشک” کی کامیابی کو ایک نئی بلندی پر لے جاتی ہے۔ ان کی تحریروں کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ان پر جامعات میں تحقیقی مقالے تحریر کیے گئے ہیں، جو ان کی فنی عظمت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ ہنی انصاری کی تحریر کا سب سے نمایاں پہلو ان کے موضوعات کا تنوع، بیان کی دلکشی، اور فکر انگیز گہرائی ہے۔ مختصر جملوں میں وسیع تر مفہوم سمو دینا اور قاری کو سوچ کے نئے زاویے فراہم کرنا ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
"پس حجاب” میں زندگی کے تلخ حقائق، سماجی مسائل، اخلاقی اقدار، اور روحانی پہلوؤں کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ہر افسانہ اور افسانچہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ تحریریں خواب اور حقیقت کے بیچ پل کا کردار ادا کرتی ہیں، جہاں ہر کہانی اپنی تکمیل کے بعد قاری کو ایک نئی سوچ عطا کرتی ہے۔
محترمہ ہنی انصاری کی نثر کی موسیقیت اور ان کے قلم کی روانی قاری کو ایسے بہا لے جاتی ہے جیسے کوئی جادوئی کشتی خوابوں کی دنیا میں لے جا رہی ہو۔ ہر کہانی ایک مکمل اور منفرد تجربہ ہے جو اپنی دلکشی اور معنویت کے باعث دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔ ہنی انصاری صاحبہ کی یہ خوبی کہ وہ روزمرہ کے معمولی واقعات کو ایک نئی روشنی میں پیش کر سکتی ہیں، ان کی تحریروں کو ہم عصر ادیبوں سے ممتاز کرتی ہے۔
"پس حجاب” نہ صرف قاری کی ادبی تشنگی کو سیراب کرتا ہے بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نئے زاویوں سے دیکھنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ امید ہے کہ یہ مجموعہ علمی و ادبی حلقوں میں اپنی جگہ بنائے گا اور ہنی انصاری صاحبہ کو ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام عطا کرے گا۔ "ورائے اشک” کی طرح "پس حجاب” بھی اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوگا۔ آمین۔
