اشفاق اللہ خان ندوی

کل 4 /فروری 2025 بروز پیر بعد نماز مغرب یک روزہ عظیم الشان جلسہ دستاربندی زیر صدارت حضرت اقدس حضرت مولانا نیاز احمد صاحب قاسمی مہتمم مدرسہ جامعۃ الاسلام والقرآن میہاں ہرہنگ پور دیوریا، زیر سرپرستی حضرت مولانا و مفتی اشفاق احمد صاحب قاسمی امام و خطیب جامع مسجد دیوریا، زیر نگرانی حضرت اقدس جناب قاری عبدالوحید صاحب مہتمم مدرسہ قاسم العلوم کولا چھاپر زیر نظامت مولانا اشفاق اللہ خان ندوی ناظم جامعہ عائشہ للبنات پکڑی خرد مہراجگنج  منعقد ہوا۔

حضرت قاری حامد علی صاحب مہتمم مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود رام نگر مغربی چمپارن نے قرآن کریم کی تلاوت سے جلسے کا آغاز فرمایا پروگرام کی نظامت فرما رہے مولانا اشفاق اللہ خان ندوی نے تمہیدی گفتگو کے درمیان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ سب سے پہلے آپ حضرات اس خالق و مالک کے شکر کے جذبے کے ساتھ تشریف رکھیں جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا نیستی سے ہستی کے اندر لاکر کھڑا کر دیا اور احسن تخلیق کا خوبصورت تمغہ امتیاز عطاء کیا۔

توقع سے تیرے لطف و کرم کو بیشتر پایا

میں خود شرما گیا جب اپنا دامن مختصر پایا

 اس کے بعد حضرت قاری سہیل احمد صاحب کشی نگری اور حافظ سیف اللہ صاحب نے نعت نبی کا نذرانہ پیش کیا اس جلسے کے مقرر رہے حضرت مولانا عبید اللہ صاحب قاسمی امام و خطیب جامع مسجد بلمہا بازار دیوریا نے علم کی اہمیت و افادیت پر مختصر سے وقت میں انتہائی جامع اور پر مغز خطاب فرمایا ، حضرت مولانا نے اپنے خطاب کے درمیان فرمایا کہ انسان چاہے جتنا ترقی کر لے وحئ الہ سے منسلک ہوئے بغیر راہ اعتدال پر قائم نہیں رہ سکتا ، پروگرام کے دوسرے مقرر حضرت مولانا عبد الباطن صاحب نعمانی دامت برکاتہم العالیہ امام و خطیب شاہی جامع مسجد گیان واپی بنارس و مفتی شہر بنارس نے عظمت قرآن کریم کے عنوان پر انتہائی شاندار تقریر فرمائی حضرت نے اپنی تقریر کے درمیان فرمایا کہ اگر عزت و سربلندی چاہتے ہو تو قرآن کریم سے اپنے رشتے کو مضبوط کرو کیونکہ جس چیز کی نسبت قرآن کریم کی طرف ہو جاتی ہے وہ شی محترم اور معزز ہو جایا کرتی ہے مثال کے طور پر خالص لکڑی کے ٹکڑے کی ہماری نظروں میں کوئی اہمیت نہیں لیکن اگر اسی لکڑی کے ٹکڑے کو رحل بنا دیا جائے تو ہم میں سے ہر ایک شخص اسکی عزت کرنے لگتا اور اسے طریقے اور سلیقے سے رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔

اس جلسے کے تیسرے ہر دل عزیز مقررحضرت مفتی سعد النجیب صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی انتہائی پر مغز بیان فرمایا ، اخیر میں جلسے کے مقرر خصوصی رہے پیر طریقت حضرت مولانا وسیم احمد صاحب مدظلہ العالی خلیفہ و مجاز حضرت قاری امیر حسن صاحب رحمۃاللہ علیہ و ناظم اعلیٰ مدرسہ بستان رحمت محی الدین پور سیوان بہار نے دعا اور ذکر کی فضیلت بتاتے ہوئے فرمایا کہ آج سب سے ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنا رشتہ اپنے خالق و مالک سے مضبوط کریں ان شاء اللہ ہمارے سارے مشکلات حل ہو جائیں گے ، بیان سے فارغ ہونے کے بعد حضرت نے جامع دعا کے ذریعے جلسے کا اختتام فرمایا

اخیر میں ناظم جلسہ اشفاق اللہ خان ندوی نے 10 /بج کر 38 منٹ پر جلسے کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے تمام علماء کرام اور سامعین عظام کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے