اگر ہم اسلامی نظام کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ذخیرہ اندوزی کی نہ حمایت کرتا ہے اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ مال کو ایک مخصوص طبقہ میں محصور کر دینے کو جائز قرار دیتا ہے اس کے خاتمہ کیلئے جہاں صدقات و خیرات، صدقہ فطر و عطیات کا حکم دیتا ہے وہیں مالداروں کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دے کر اقتصادی حیثیت سے کمزور طبقہ کو راحت پہنچاتا ہے، جس کی تکمیل تقسیم وراثت کا نظام قائم کرکے اقتصادی نشیب و فراز کو ختم کرنے کا ایک مثالی دستور حیات عطا کیا ہے جو صرف اور صرف اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔
زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن اور عظیم الشان فریضہ ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کا مجموعہ ہے اگر اسکا ایک سلسلہ اللہ تعالیٰ سے منسلک ہے تو دوسرا سلسلہ بندگان ِ خدا سے جڑا ہوا ہے جس کو اسلامی شریعت میں مصارف زکوٰۃ سے بیان کیا جاتا ہے اسکی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ درجنوں آیتوں میں جہاں نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں متصلََاــ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم بھی موجود ہے۔
ضروریات زندگی پوری ہونے سے سال گزر جانے کے بعد جو مال بچ جاتاہے اس پر زکوۃ فرض ہے یعنی مال کا چالیسواں حصہ نکال کر مستحقین زکوٰۃ تک پہنچانا ضروری ہے عام طور پر اس کو رمضان کے مہینہ سے جوڑا جاتاہے جو غلط ہے کیونکہ سال غیر رمضان میں بھی پورا ہو جاتا ہے اعتبار سال پورا ہونے کا ہے نہ کہ رمضان کے ماہ کی آمد کا اگر زکوۃ کی ادائیگی میں کوتاہی برتی جاتی ہے تو اس پر قرآن و حدیث میں سخت وعید وارد ہوئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ توبہ میں فرماتا ہیــ’’ دردناک سزاکی خوشخبری دو ان کو جو سونے چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ایک دن آئیگا اس سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائیگی پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوئوں اور پیٹھوں کو داغا جائیگا، یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا تو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو‘‘۔
چونکہ زکوۃ کا ایک سلسلہ جہاں اللہ کے حقوق سے وابستہ ہے وہیں اسکا دوسرا سلسلہ بندگان خدا کے حقوق سے جڑا ہو ہے ایک شخص اگر مالی زکوۃ ادا نہ کرکے اللہ کے حکم سے بغاوت کرتا ہے تو دوسری طرف بندگان خداکے حق پر شب خوں مارتا ہے جسکی اسلام قطعاََ اجازت نہیں دیتا ، یعنی زکوۃ کا نہ ادا کرنے والا حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو چیلنج کرتا ہے جو ناجائز اور حرام ہے۔
عہد اسلام میں مسلمانوں کے پہلے خلیفہ امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین زکوۃ کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور آپ نے فرمایا ’’دین میں کمی کی جائے اور میں زندہ رہوں ؟یعنی میرے جیتے جی اسلام میں کسی چیز کی کمی نہیں کی جاسکتی ‘‘ حتی کہ زکوۃ میں اونٹ باندھنے والی جو رسی دی جاتی تھی اگر وہ نہیں دیتے ہیں تو اس کے خلاف جہاد کرتا رہوں گا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مانعین زکوۃ کے خلاف جہاد میں جو صحابہ کرام شہید ہوئے اس میں اکثر تعداد حفاظ کرام کی تھی۔
اللہ تعالیٰ صاحب نصاب مسلمانوں کو زکوۃ ادا کرنے کی موقع عطا فرمائے اور مستحقین تک مال زکوۃ پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
حجاز منزل، کسیا ، کشی نگر
