وحید واجد ایم۔اے۔ رائچور (کرناٹک)

(۱)گِدھ
وقف کی لاشیں بکثرت ہر طرف ہیں الاماں
پرتعفن ہوگیاہے آج شہر ِ گلستاں
حشر کے میدان سا منظر نظر آنے لگا
مثلِ گِدھ مردار پر منڈلاتے ہیں ابن ِ فلاں

(۲)اوقاف لٹ رہاہے
کچھ ہاف لٹ چکاہے ، اب ہاف لٹ رہاہے
شُرفاء کی محفلوں میں اوقاف لٹ رہاہے
ڈائرکٹ تو نہیں سب چوروں کی منڈیوں میں
اوقاف کااثاثہ کیرآف لُٹ رہاہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے