میربیدری، بیدر،کرناٹک

چاہتوں کا نیا لہجہ نہیں تھے
قید میں رکھنے کا حربہ نہیں تھے

کیسی آنکھوں کاسیپارا نہیں تھے
کعبہ تھے میر شوالہ نہیں تھے

سردیاں تھیں تو شرارا نہیں تھے
جمع رکھیں جو وہ پیسہ نہیں تھے

ہم کہ اشرف ہیں، فرشتے ہیں گواہ
سر تھے دستار کا ، تلوا نہیں تھے

عنکبوتی وہ نقابیں نہیں ہم
پہنے جو ایسا بھی جبہ نہیں تھے

حصہ بخرا کی لگی تھی اک دوڑ
ہم اُسی کھیل کا حصہ نہیں تھے

بے وفائی نے دِکھائے یہ دِن
جو سما جائے وہ جثہ نہیں تھے

ہر ہوامیں اُڑا کرتے ہیں جہاز
چھین لے ہم سے وہ دھندا نہیں تھے

چلتے پھرتے رہاکرتے ہیں میر
زندوں کے ہاتھ سا مُردا نہیں تھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے