اپنے رب کا سبھی فرمان ہوئے
اس قدر میر ہم آسان ہوئے
آیا کوویڈ ،جلے ارمان ہوئے
اب کہ آباد، یوں شمشان ہوئے
تیری نظروں کے کرم سے ہو کر
گزرے جتنے بھی وہ سلطان ہوئے
ہم نے بازار میں دیکھے نہیں پھول
رکھنے کو پھول سا گلدان ہوئے
ان کو چھیڑو نہیں ، دیکھو نہ انھیں
وہ کہ بجلی، یہ کہ طوفان ہوئے
ایک دوجے کی اُتارنے عزت
وہ بھی اور ہم بھی تو شیطان ہوئے
سانس در سانس ہے جیون آباد
کیوں نہیں یاد کہ احسان ہوئے
ایک دنیا ہے میسر ہم کو
دوستو ہم بھی تو آسان ہوئے
زندگانی نے دِکھایا یہ دِن
میر ہم تنگیء دامان ہوئے
