سرفراز بزمی
راجستھان انڈیا
سویرے میں نے کیا دیکھا
گھرا تھا بھیڑیوں کی بھیڑ میں بکری کا اک بچہ
یہ ننھا میمنہ جو بھیڑیوں کی بھیڑ میں گھر کر
لپکتی موت سے ڈر کر
ذرا ہٹ کر
وہ ننھے ادھ اگے سینگوں سے بچتا ہے بچاتا ہے
دفاع ذات کی خاطر
فقط شہ مات کی خاطر
وہ اپنا سر ہلا تا ہے
اسی پر بھیڑیوں کی بھیڑ میں اک شور برپا ہے
"یہ سینگوں سے ڈراتا ہے
ہمیں دہشت دلاتا ہے
ہمارا ساتھ دو لوگو
اسے مارو جہادی ہے
بڑا آتنک وادی ہے "
