مجیب احمد مجیب، بیجاپور
سن کر بھی نہیں ڈرتے تھے شیطان کی باتیں
وہ سنتے ہی اب ڈرتے ہیں انسان کی باتیں
جب جاں تھی نہ کوئی سُنا اُس جان کی باتیں
اب سُننے ہجوم آیا ہے بے جان کی باتیں
ٹی وی میں دکھایا گیا وہ مولوی کیسے
لڑکی سے کیا کرتا تھا ارمان کی باتیں
واقف ہیں تیرے دین اور ایمان سے ہم لوگ
تُو تو نہ بتا دین اور ایمان کی باتیں
باطل سے ڈرا کرتے ہو دنیا کی ہوس میں
کیایاد نہیں ہیں تمہیں قرآن کی باتیں
شامل ہے جو ہر جرم میں ہر کارِ بدی میں
بھاتی ہیں زمانے کواس انسان کی باتیں
اُس نے ہی بگاڑا ہے میرے گھر کا توازن
کرتا ہے مجیب آج جو میزان کی باتیں
