??????????????

"خود پر فخر کریں اور اعلانیہ کہیں کہ ہم نے اردو زبان و ادب سے ایم اے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے”: 

ڈاکٹر زبیدہ ہاشم ملاں کا طلبہ کی الودعی تقریب کا شاندار انعقاد

بیدر۔ 21؍جولائی: (محمدیوسف رحیم بیدری): اردو زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی، مگر آج ساری دنیا میں اس کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اردو کسی خاص فرقے کی زبان نہیں ہے۔ اردو تحریکِ آزادی کی واحد زبان رہی ہے، اور بلا امیتاز قوم و مذہب و ملت جنگ آزادی میں اردو زبان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انقلاب زندہ باد کا نعرہ اسی زبان کی دین ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر زبیدہ ہاشم ملاں، سابق پرنسپل، نہرو آرٹس، سائنس و کامرس ڈگری کالج ہبلی نے بروز ہفتہ، /19جولائی 2025ء کو جامعہ کرناٹک دھارواڑ کے شعبہ اردو و فارسی کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ اجلاس اور پر رونق الودعی تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی کیا۔
ڈاکٹر زبیدہ ہاشم ملاں نے طلبہ و طالبات سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کیونکہ آپ کی اردو زبان و ادب سے وابستگی، دراصل تہذیب و اخلاق سے وابستگی ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں طلبہ کو تلقین کی کہ احساس کمتری اور احساسِ برتری دونوں سے دوری اختیار کریں، خود پر فخر کریں اور اعلانیہ کہیں کہ ہم نے اردو زبان و ادب سے ایم اے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ شارٹ کٹ کا راستہ نہ اختیار کریں۔ بلکہ محنت، لگن اور کوشش سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ آج کے مسابقتی دور میں شعر و ادب کے ہمراہ جدید ٹکنالوجی کا علم حاصل کریں، بلکہ حصولِ علم کے لیے اس کا مثبت استعمال بھی کریں۔
تقریب کا آغاز ایم اے اردو سال دوم کے طالبِ علم عبدالشکور کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں بارگاہِ رسالت مآب میں ایم اے سال دوم کی طالبہ گوہر جان نے نذرانہُ نعت پیش کیا۔ شعبۂ اردو و فارسی کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شکیلہ بانو غوری خان نے مہمانِ خصوصی، اساتذہ کرام اور شرکائے تقریب کا پر تپاک استقبال کیا اور مہمان خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ مہمان خصوصی کی خدمت میں تہنیت پیش کرنے کے بعد گزشتہ سال گولڈ میڈل حاصل کرنے والی طالبہ نور صبا اور آرٹس فیکلٹی میں جامعہ کرناٹک میں دوسرا رینک حاصل کرنے والی طالبہ زینب شیخ سندی کو بھی شعبہ کی جانب سے نیک دعا کے ساتھ تہنیت پیش کی گئی۔ شعبۂ اردو کی سال بھر کی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ، احمد علی ہنچنمنی کی قرات کے ساتھ ڈیجٹلائز کر کے پروجیکٹ کی گئی، جو قابل ستائش امر رہا۔ شعبہُ اردو کے زیر اہتمام منعقد ہوئے ادبی و ثقافتی مقابلہ جات کے انعام یافتگان کی ہمت افزائی کرتے ہوئے تقسیم انعامات کی کاروائی ڈاکٹر ریشمہ حسینی نے خوش اسلوبی سے چلائی۔
فارغ ہونے والے طلبہ نے اپنے دو سالہ تعلیمی سفر کی روداد و تجربات کو غم و خوشی کے ملے جلے احساس سے نہایت جذباتی انداز میں اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دو سالہ سفر نصابی تعلیم کا سفر ہی نہیں رہا بلکہ یہ ہماری شخصیت کی تعمیر، سوچ کے ارتقا اور زندگی کی نئی جہتوں کے انکشاف کا بھی سفر رہا ہے۔ یہ سب ہمارے محترم اساتذہ کرام کی رہنمائی، شفقت اور انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ یس اے، بہادر (ریسرچ اسکالر) نے نظامت کے فرائض بہ حسن و خوبی انجام دیے اور ان ہی کے اظہار تشکر پر ادب، تہذیب، علم و احساس کی روشنی سے لبریز یہ یادگار تقریب اختتام کو پہنچی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے