مفتی عبدالصبور قاسمی اور مولانا عبدالمجیب قاسمی کے فکر انگیز خطابات
نیالکل، 7 اگست (مشرقی آواز جدید): نیالکل منڈل میں جمعیۃ علماء ہند کی پہلی باضابطہ یونٹ کا قیام ایک روح پرور اور پرجوش اجلاس میں عمل میں آیا، جو جامع مسجد نیالکل میں بعد نماز عصر تا عشاء منعقد ہوا۔ اگرچہ نیالکل منڈل میں جمعیۃ علماء کا دعوتی، دینی اور ملی کام کئی دہائیوں سے جاری تھا، تاہم باضابطہ منڈل سطح کی تنظیمی یونٹ پہلی مرتبہ تشکیل دی گئی، جو اس علاقے میں جمعیۃ کے کام کو منظم، مربوط اور مؤثر بنانے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اجلاس کی صدارت مولانا عبدالمجیب قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ظہیرآباد) نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مفتی عبدالصبور قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع سنگاریڈی) نے انجام دیے۔ اس موقع پر منڈل کے 32 میں سے 27 دیہات کے ائمہ، ذمہ داران اور معززین نے بھرپور شرکت کی، اس موقع پر
مفتی عبدالصبور قاسمی نے اپنے تفصیلی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کا تعارف اور اس کی خدمات پر تاریخی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ
جمعیۃ علماء ہند محض ایک تنظیم نہیں بلکہ یہ برصغیر کی سب سے قدیم، مستحکم اور قابلِ اعتماد ملی قیادت کا نام ہے، جس نے آزادی کی تحریک میں بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ انگریز سامراج کے خلاف علمائے کرام نے جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کی، دارالعلوم دیوبند کی فکری رہنمائی اور جمعیۃ کی عملی قیادت نے وطنِ عزیز کو آزادی دلوانے اور اسلام کے تشخص کو محفوظ رکھنے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔
انہوں نے جمعیۃ کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم 1919 میں قائم ہوئی اور آج بھی اپنے قیام کے مقاصد یعنی تحفظ ختمِ نبوت، دفاعِ شریعت، تعلیم و تربیت، خدمتِ خلق، ملی و سماجی رہنمائی اور اوقاف کے تحفظ میں سرگرم عمل ہے
مفتی عبدالصبور قاسمی نے موجودہ قیادت کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا محمود اسعد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند) کی جراتمندانہ قیادت نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کیا اور عدلیہ و پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ملتِ اسلامیہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط موقف اختیار کیا۔ اسی طرح حافظ پیر شبیر احمد صاحب (صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش) نے ریاست میں تعلیمی، رفاہی اور دینی شعبوں میں بے پناہ خدمات انجام دیں، مساجد و مدارس کے تحفظ، فلاحی پروجیکٹس اور ائمہ و خطباء کی سرپرستی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔
انہوں نے منڈل کے شرکاء کو جمعیۃ کے تمام شعبہ جات — دینی تعلیمی بورڈ، شعبہ اوقاف، قانونی امداد، خدمت خلق، اصلاح معاشرہ اور تحفظ ختم نبوت — کا تعارف پیش کیا اور ممبر سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط تنظیم ہی ملت کے مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے
مولانا عبدالمجیب قاسمی کا ولولہ انگیز خطاب
مولانا عبدالمجیب قاسمی نے اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ظہیرآباد کی حالیہ میعاد میں انجام دی گئی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ
"ہم نے ضلع کے مختلف علاقوں میں دینی تعلیم کے فروغ، غرباء کی امداد، قدرتی آفات میں متاثرین کی مدد، اور ملی یکجہتی کے لیے مؤثر مہمات چلائیں۔ جمعیۃ ہمیشہ قوم و ملت کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔”
انہوں نے نیالکل منڈل کی نئی یونٹ کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اس علاقے کے مسلمانوں کی ملی و دینی قوت کو مزید مضبوط کرے گا۔
انتخابی کارروائی
بحیثیت مبصر مولانا عبدالمجیب قاسمی نے انتخابی کارروائی شروع کی۔ اتفاقِ رائے سے
مولانا ضمیرالدین رحمانی — صدر
محمد بشیر خان صاحب — جنرل سکریٹری
منتخب ہوئے۔
مزید عہدیداران میں
نواب سراج الدین صاحب (چنگے پلی)، محمد یونس صاحب (ریجنتل)، عبدالوحید صاحب (نیالکل)، سید قادر حسین صاحب (گنگوار) — نائب صدر
امام صاحب (نیالکل)، ملتانی صاحب (وڈی)، نذیر بھائی (چی کورتی)، شاکر صاحب (ریجنتل) —
تقریباً 27 دیہات سے اراکینِ منتظمہ و عاملہ منتخب ہوئے۔
حافظ محمد مصطفی (چنگے پلی) — صدر دینی تعلیمی بورڈ منتخب ہوئے۔
اس موقع پر حافظ اکبر صاحب (خازن ضلع سنگاریڈی)، عبدالقدیر صاحب (سکریٹری)، اور حافظ ارشد صاحب (صدر دینی تعلیمی بورڈ ظہیرآباد) نے بھی خطاب کرتے ہوئے نومنتخب اراکین کو اخلاص، ایثار اور مستقل مزاجی کے ساتھ جمعیۃ کے عظیم پلیٹ فارم سے قوم و ملت کی خدمت کرنے کی تلقین کی۔
اجلاس کا اختتام مولانا عبدالمجیب قاسمی کی دعائے خیر پر ہوا۔ شرکاء نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ نیالکل منڈل کی یہ پہلی باضابطہ یونٹ علاقے میں دینی و ملی خدمات کے نئے باب کا آغاز کرے گی۔۔۔۔
