تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معینؔ کا بیان
ظہیرآباد 10/ اگست(مشرقی آواز جدید): تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آج کی صبح محض ایک دن کا آغاز نہیں، بلکہ امید کی کرن، صحت کی تازگی اور خدمتِ خلق کے نئے عہد کا پیغام لیے طلوع ہوئی۔ آج حیات ایلیٹ اسپتال کے دروازے اس عزم کے ساتھ کھلے کہ علاج صرف دواؤں سے نہیں بلکہ محبت، عزت اور انسانیت سے کیا جائے گا۔یہ دن اُن خوابوں کی تکمیل کا دن ہے جو کبھی تصور میں تھے، جن پر یقین کیا گیا اور پھر جنہیں حقیقت کا روپ دیا گیا۔اس ادارے کی قیادت میں دو روشن نام نمایاں ہیں — ڈاکٹر محمد علیم الدین، جو بحیثیت جنرل فزیشن اور ذیابیطس اسپیشلسٹ اپنے علم، تجربے اور خدمت کے جذبے سے عوام کی صحت کے محافظ بنے ہوئے ہیں. اور ڈاکٹر بے نظیر خانم، ماہر امراضِ نسواں، جو بانجھ پن کے علاج میں مہارت رکھتی ہیں اور اب تک سو سے زائد جوڑوں کو اولاد کی خوشی عطا کر چکی ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور شفقت نے مریضوں کے دلوں میں اعتماد اور اطمینان پیدا کیا ہے۔
ذیابیطس کے خلاف اسپتال کا جدید ہتھیار Diabetes Risk Profiler Machine ہے، جو دل، اعصاب، خون کی روانی اور پھیپھڑوں کے افعال کا باریک تجزیہ کر کے بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کو ممکن بناتی ہے۔یہ صرف ایک اسپتال نہیں، فلاحی تحریک ہے۔ مذہبی رہنماؤں کے لیے مفت مشاورت، اساتذہ کے لیے محض سو روپے فیس اور پچاس فیصد رعایت، میڈیکل طلبہ کے لیے رہنمائی و انٹرنشپ، اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفت کیمپس . یہ سب اس کے سماجی کردار کی روشن مثالیں ہیں۔جہاں شفا کو عبادت سمجھا جائے، وہاں انسانیت پروان چڑھتی ہے۔ حیات ایلیٹ اسپتال اسی نظریے کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ آئیے، ہم سب اس عزم کو اپنائیں کہ "Health Care Meets Happiness” صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا اصول بن جائے۔۔۔۔
