بنگلورو۔ 11؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): وجئے پورہ کے ایم ایل اے بسن گوڈا پاٹل یتنال دراصل ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ نفرت پیدا کر رہے ہیں اور سماجی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔ وہ حساس حالات میں بھی اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کے ذریعے معاشرے میں بدامنی پھیلا رہے ہیں جس پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر اور وکیل جناب طاہر حسین نے برہمی کا اظہار کیا۔اورکہاکہ کپل میں یتنال کا یہ بیان کہ ”ریاست میں ایک مسلم حکومت برسراقتدار ہے اور میں ان ہندو نوجوانوں کو 5؍ لاکھ روپے دوں گا جو مسلم لڑکیوں سے شادی کریں گے” شرمناک ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں ایم ایل اے کے عہدے سے ہٹا دیا جائے کیونکہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان زہر کے بیج بونا بند کریں اور غریبوں اور مسکینوں کے بارے میں اچھا سوچیں۔ مسلمانوں کو براکہے بغیر ان کاکھاناہضم نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسی سماج دشمن قوتوں کو روکے۔ انہوں نے صاف طورپر مطالبہ کیا کہ ایم ایل اے یتنال کے خلاف فوری طور پر تادیبی کارروائی کی جائے۔اس بات کی اطلاع ایک پریس نوٹ کے ذریعہ ویلفیرپارٹی آ ف انڈیا کرناٹک نے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے