بنگلورو (محمدیوسف رحیم بیدری): جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کے دفترِ حلقہ میں ایک روح پرور اور یادگار نشست اس وقت منعقد ہوئی جب اجمیر شریف درگاہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا سید سرور چشتی حفظہ اللہ نے اپنی بابرکت موجودگی سے اسے رونق بخشی۔ ان کا استقبال سکریٹری حلقہ جناب محمد یوسف کنی نے کیا اور کہاکہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی پہچان داعی کی ہے،انہوں نے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں سے رابطہ قائم فرمایا۔ان ہی کے چشم چراغ ،فرزند توحیدکی دفتر جماعت پر آمد خلوص و محبت کا اظہار ہے۔ اس موقع پر آر ٹی نگر کے رفقاء، مسجدِ اعلیٰ اور رحمت نگر جامع مسجد،مسجد سعد بن ابی وقاص ،مسجد بلال,مسجد عائشہ کے ذمہ داران بڑی تعداد میں شریک رہے۔
امیر حلقہ ڈاکٹر محمد سعد بلگامی صاحب نے حضرت مہمان کو جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی سرگرمیوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے بالخصوص ہفت روزہ سنمارگ، خواتین کے لیے مخصوص رسالہ انوپما، بچوں کی اشاعتیں اور ریاست بھر میں اسکولوں اور مدارس کا تعارف پیش کیا۔ اس دوران بنگلور میں قائم جامعۃ الطیبات رہائشی ادارہ کو بطور خاص اجاگر کیا جو دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔اس موقع پر امیر حلقہ نے کہا کہ جماعت برادران وطن کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور سماج میں امن و امان کی کوشش میں لگی ہے۔ملت اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق کے لئے کوشاں ہے۔
روایتی اعزاز کے طور پر حضرت سجادہ نشین کو شال اور تحائف پیش کیے گئے۔ حضرت نے اس کو قبول فرماتے ہوۓ محبت و خلوص کا اظہار فرمایا۔
اپنے خطاب میں حضرت مولانا سرور چشتی حفظہ اللہ نے بڑے درد مندانہ انداز میں غزہ کے حالات پر گفتگو کی اور کہا کہ: "ہمارے بھائی بھوک اور محاصرے میں پس رہے ہیں، لیکن ستاون مسلم ممالک خاموش تماشائی ہیں۔”
انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سب سے بڑی ضرورت تعلیم اور بالخصوص قانون کی تعلیم کی ہے۔ "امت کو وکیلوں کی ضرورت ہے تاکہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکے،” حضرت نے زور دیتے ہوئے کہاکہ جماعت سے کئی امیدیں وابستہ ہیں،ملت کی تمام جماعتوں ،تنظیمون اور اداروں کی ساتھ علماء و دانشورانِ کو یکجا کرنے میں جماعت اپنا رول ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق چشتیہ سے ہے، آپ کی کاوشوں کو اللہ شرف قبولیت بخشے ۔حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت کے تعلق سے غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں اس کے ازالے کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔
انہوں نے وقف کے مسئلے پر بھی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا ذریعہ بنا،جماعت اسلامی ہند امت میں اتحاد کی کوشش کو سراہا تے ہوئے کہا جماعت اس میدان میں سرگرم ہے اور عملی جدوجہد کر رہی ہے۔یہ نشست نہ صرف ایک اعزاز ثابت ہوئی بلکہ وحدتِ امت اور مشترکہ جدوجہد کی ایک مثبت علامت بھی بنی۔ اجمیر شریف کے سجادہ نشین کی اس تشریف آوری کو عوام اور خواص نے نہایت خوش آئند قرار دیا۔
نشست کے اختتام پر یہ احساس نمایاں تھا کہ امت کو اگر تعلیم، اتحاد اور اجتماعی شعور کی روشنی حاصل ہو جائے تو وہ ایک بار پھر تاریخ میں اپنی عظمت کے باب رقم کر سکتی ہے۔
امیر حلقہ ڈاکٹر محمد سعد بلگامی صاحب نے حضرت مہمان کو جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی سرگرمیوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے بالخصوص ہفت روزہ سنمارگ، خواتین کے لیے مخصوص رسالہ انوپما، بچوں کی اشاعتیں اور ریاست بھر میں اسکولوں اور مدارس کا تعارف پیش کیا۔ اس دوران بنگلور میں قائم جامعۃ الطیبات رہائشی ادارہ کو بطور خاص اجاگر کیا جو دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔اس موقع پر امیر حلقہ نے کہا کہ جماعت برادران وطن کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے اور سماج میں امن و امان کی کوشش میں لگی ہے۔ملت اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق کے لئے کوشاں ہے۔
روایتی اعزاز کے طور پر حضرت سجادہ نشین کو شال اور تحائف پیش کیے گئے۔ حضرت نے اس کو قبول فرماتے ہوۓ محبت و خلوص کا اظہار فرمایا۔
اپنے خطاب میں حضرت مولانا سرور چشتی حفظہ اللہ نے بڑے درد مندانہ انداز میں غزہ کے حالات پر گفتگو کی اور کہا کہ: "ہمارے بھائی بھوک اور محاصرے میں پس رہے ہیں، لیکن ستاون مسلم ممالک خاموش تماشائی ہیں۔”
انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سب سے بڑی ضرورت تعلیم اور بالخصوص قانون کی تعلیم کی ہے۔ "امت کو وکیلوں کی ضرورت ہے تاکہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکے،” حضرت نے زور دیتے ہوئے کہاکہ جماعت سے کئی امیدیں وابستہ ہیں،ملت کی تمام جماعتوں ،تنظیمون اور اداروں کی ساتھ علماء و دانشورانِ کو یکجا کرنے میں جماعت اپنا رول ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ سید ابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق چشتیہ سے ہے، آپ کی کاوشوں کو اللہ شرف قبولیت بخشے ۔حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت کے تعلق سے غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں اس کے ازالے کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔
انہوں نے وقف کے مسئلے پر بھی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا ذریعہ بنا،جماعت اسلامی ہند امت میں اتحاد کی کوشش کو سراہا تے ہوئے کہا جماعت اس میدان میں سرگرم ہے اور عملی جدوجہد کر رہی ہے۔یہ نشست نہ صرف ایک اعزاز ثابت ہوئی بلکہ وحدتِ امت اور مشترکہ جدوجہد کی ایک مثبت علامت بھی بنی۔ اجمیر شریف کے سجادہ نشین کی اس تشریف آوری کو عوام اور خواص نے نہایت خوش آئند قرار دیا۔
نشست کے اختتام پر یہ احساس نمایاں تھا کہ امت کو اگر تعلیم، اتحاد اور اجتماعی شعور کی روشنی حاصل ہو جائے تو وہ ایک بار پھر تاریخ میں اپنی عظمت کے باب رقم کر سکتی ہے۔
