سپریم کورٹ کی خدمت میں
بابری مسجد کی شہادت اور آثار قدیمہ کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی، مگر، ـ’’آستھا‘‘ کے لئے ہندو فریق کو دیجاتی ہے، اس حکم کے خلاف ہمارے لیڈران آواز اٹھاتے رہے مگر کوئی سنوائی نہیں ہوئی، اور ایک فریق کے آستھا کا خیال کرتے ہوئے دوسرے فریق کے آستھا کو جہاں مجروح کیا گیا وہیں اس جگہ پر مند کی تعمیر کردی گئی مگر یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مسجد ایک جگہ تعمیر ہوجاتی ہے تو وہ مسجد ہی رہتی ہے اگر چہ اس کو مندر کی شکل دے دی جائے۔
آج ہمارے ملک میں ایک کمیونٹی کے بزرگوں کے مزارات ، مساجد اور آثار قدیمہ کو بلڈوزر سے مسمار کیا جارہاہے جس سے ہماری آستھا کو مجروح کیا جارہاہے تو پھر کہاں گئی آستھا؟ اس لئے مسلم کمیونٹی کے آستھا کا لحاظ کرتے ہوئے فوراکاروئی بند کی جائے۔
آج یہ کاروائی دوسرے فریق کے مندروں، مٹھوں اور سمادھیوں کے ساتھ کیوں نہیں۔
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا، کسیا، کشی نگر، یوپی
