اُس روز انسان کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔
بسوا کلیان: (نامہ نگار): بسوا کلیان جامع مسجد میں خُصوصی اجتماع سے عبد القادر صاحب مدرس نے درس قرآن میں سورۃ القيامة کےآیت نمبر 1-15 کی تلاوت و ترجمانی کے تفسیر کرتے ہوئے کہاکہ,
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی , اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی ۞ کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ ۞ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں ۞ مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے ۞ پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟” ۞ پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے ۞ اور چاند بے نور ہو جائیگا ۞ اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے ۞ اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟” ۞ ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ۞ اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا ۞ اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا ۞ بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے ۞ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے , عبد القادر صاحب نے آگے سورۃ القیامہ کی 30 آیتوں تک کی تفسیر میں قیامت کے منظر کو بتاتے ہوئے انسان کو اچھے عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی, اجتماع میں محمد بلال احمد, نے علامہ اقبال کے زندگی کے بارے میں بتایا اور ڈاکٹر علامہ اقبال کے عمل کی طرف راغب کرنے والے شعر کو پیش کیا۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے.
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
علامہ اقبال کی شاعری میں انسان کے شخصیت کی ترقی و بلندی ہوتی ہے اور انسان کے اندر بدلنے, اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے وہ عنصر بھی پائے جاتے ہیں, مگر ہم کو چاہئے کہ علامہ اقبال کو پڑھیں، ان کی شاعری کو سمجھیں۔ اور انہوں نے مذید دیگر اشعار کو بھی پڑھ کر بتایا۔
آج کے دور میں قرآن و حدیث کے بعد انسان کی روح کو گرمانے والے,علامہ اقبال کے اشعار و کلام ہیں۔ لہذا ہم کو چاہیئے کہ ان کو پڑھیں, علامہ اقبال کی ذندگی ہمارے لیئے مثال ہے, ڈاکٹر علامہ اقبال اپنی زندگی میں قرآن کی ایک ایک آیت پر غور و فکر کرتے اور رات میں روتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے رجوع ہوتے , اور گڑ گڑا تے تھے, بلال احمد صاحب نے علامہ اقبال کی زندگی کے متعلق بتایا کہ اس وقت کے دور میں موجودہ صورت حال پر مُلک کی کیفیت کو مسلمانوں کو ہمت دلانے والے خطاب فرماتے اور , ہمت بڑھاتے اور ڈاکٹر علّامہ اقبال نے ایمان والوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کہا کرتے تھے۔
محترم ذوالفقار احمد صاحب نے اجتماعیت سے متعلق بتایا کہ اجتماعیت سے روح کو تقویت ملتی ہے، ہم سب کو جماعت میں شامل ہوکر دین کا کام کرنا چاہیے۔ محترم اسلم جناب امیر مقامی کے اختتامی کلمات اور دعا پر اجتماع اختتام ہوا مُحمّد تفہیم الدّین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
