عبدالرحمن راشد عمری

چراغ طور جو دل میں جلا لیا میں نے
نشان  منزل مقصود پا لیا میں نے

کمی نہ ہونے دی محفل میں روشنی کی کبھی
"بجھا چراغ تو دل کو جلا لیا میں نے”

امیر شہر سے آنکھیں ملا کے آیا ہوں
ضمیر مرنے لگا تھا ، بچا لیا میں نے

حقیر کوئی بھی لگتا نہیں ہے اب مجھ کو
غرور زہد سے دامن چھڑا لیا میں نے

ہو اس کے ہاتھ میں گل یا چھپا کوئی خنجر
جو آیا بڑھ کے گلے سے لگا لیا میں نے

سخن وروں سے کروں کسب فیض اے راشد
انھیں کے شہر میں اب گھر بنا لیا میں نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے