#ڈاکٹر شارب مورانوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ و دل میں عجب انحراف ہو گیا ہے
ہمارا ذہن ہمارے خلاف ہو گیا ہے
میں اسکی مسجد دل میں ٹھہرنے والا ہوں
میرے لئے تو یہی اعتکاف ہو گیا ہے
ہماری خاک تری چاک پر نہ گھوم سکی
عمل یہ کوزہ گری کے خلاف ہو گیا ہے
کوئی پرندہ نہ بھٹکیگا غم کے صحرا میں
ہمارے دل کا نشیمن ہی صاف ہو گیا ہے
وہ بچ گیا میرے وارث کو خوں بہا دیکر
کہ آج اس پے مرا خوں معاف ہو گیا ہے
ہمارا ساتھ نہ دے پاؤگے تم آخر تک
تمہاری باتوں سے یہ انکشاف ہو گیا ہے
بجھی نہ پیاس ان آنکھوں کی کعبہ دل میں
بھلے ہی اشکو سے پرنم غلاف ہو گیا ہے
چلے ہیں مجھ پے جو شارب زبان کے تیشے
زمین دل پے اسی سے شگاف ہو گیا ہے
