میرؔبیدری، بیدر، کرناٹک

خود کے اندر رہنے والے تم ہوکیا
اس طرح کے پردے والے تم ہوکیا

دِل کی بنیادوں میں کیسی ہے نمی
اندر اندر رونے والے تم ہوکیا

بات شاید ہی بنے گی ، سوچ لو
مجھ پہ وارے نیارے والے تم ہوکیا

پاس میرے جمع ہے مٹی مگر
گملے والے پودے والے تم ہوکیا

جب سے پوچھاہے میں پتھرا ہی گیا
میرے آگے سجدے والے تم ہوکیا

ہے فقط نوخیز چہروں کو یہ فکر
دِل کومیرے چھونے والے تم ہوکیا

ان صداؤں میں نہ پوچھے گا بھلا
اک صدائی طبلے والے تم ہوکیا

میرؔآخر تم بھی ظاہر ہوگئے
اس جہاں کے دیکھے والے تم ہوکیا

میرؔان کو پانے کی ہے آرزو
کیا صحابہؓ جیسے والے تم ہوکیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے