میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

آقا کو خدا نے ہی بلایا شب ِ معراج
اپنے وہ ہرعالم کودِکھایا شب ِ معراج
جانوں نہ ، ہنسایاکہ رُلایا شب ِ معراج
اسلامی ہی قانون بتایا شب ِ معراج
نبیوںمیں جنہیں ختم کی ہے مہر لگائی
نبیوں کااِمام اُن کو بنایا شبِ معراج
جبریل جہاں چھوڑ کے آقاسے تھے خالی
سدریٰ سے بھی آگے کو بلایاشبِ معراج
اس لمحہ پہ میرا ہو سلام آقا کہ اس نے
جب بھی تمہیں حاضر وہ کرایا شبِ معراج
اللہ نے نمازیں بھی ہمیں پانچ عطاکیں
تحفہ یہ عطا کرنے بلایا شبِ معراج
رب نے مرے آقا کو بلایا ، بلاکر پھر
جنت کو ، جہنم کو بتایا شبِ معرا
آقا کی فقط حاضری تھی ، ایسا نہیں ہے
کس کو پتہ کیا رب نے لُٹایا شب ِ معرا
لوگوں کی تو بابت پتہ ہم کو نہیں ہے میرؔ
معراج کو ہی ہم نے کمایا شبِ معراج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے