محمد ضیاء العظیم پٹنہ
سسکیوں کے لمحوں میں قہقہے لگاتا ہوں
قہقہے لگا کر میں اپنا دل جلاتا ہوں
بس یہ میری عادت ہے، رنج میں ہی راحت ہے
خود سے روٹھتا ہوں اور ، خود کو ہی مناتا ہوں
تجھ سے دور رہ کر بھی آس پاس ہوں تیرے
تیری یاد کے ہمراہ وقت اب بتاتا ہوں
حسن کی ہو دیوی تم اور وفا کی پیکر بھی
اس لئے محبت سے میں گلے لگاتا ہوں
ہجر کے یہ سناٹے جب مجھے ستاتے ہیں
تم پہ لکھی غزلوں کو تب میں گنگناتا ہوں
آپ جانتے ہیں کیا، آپ سے محبت ہے
آپ کو جو دیکھا تو، سب کو بھول جاتا ہوں
اے ضیا تری آنکھیں، جن سے کرتی ہیں باتیں
ان سے دور جاتا ہوں، کچھ نہ پاس پاتا ہوں
