قمر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جلسہ اصلاح معاشرہ سے مہنت لکشمیندر داس کا خطاب

فتح پور، بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): اللہ نے قرآن میں وضاحت کے ساتھ دنیا میں رائج دوسرے مذاہب کے اسلام کے پیروکاروں کو پابند کر دیا ہے کہ “ان کے معبودوں کو برا مت کہو جنھیں وہ پوجتے ہیں“ ایسے میں ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی ہم پر تنقید کرتا ہے تو ہم بدلے میں اس کے مذہب یا معبودوں اور مذہبی رہنماٶں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا نہ کریں۔ یہ باتیں جلسہ اصلاح معاشرہ کو خطاب کرتے ہوۓ قمر فاٶنڈیشن کے بانی و سرپرست معراج احمد قمر نے کہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی سماجی کارکنان سے اپیل کی کہ ملکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔ مذہبی نفرت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں ہر محب وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت کے پیغام کو عام کرنے میں اپنے کردار کو انجام دیں۔

مہنت لکشمیندر داس جی نے کہا کہ اتحاد و یکجہتی ہندوستانی مشترکہ تہذیب کا خاصہ ہے ملک سے نفرت کو ختم کرنے کے لئے مذہبی رہنماٶں کو آگے آنا ہوگا ورنہ یہ ملک بھی دیگر ایکٹریمسٹ ممالک کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہو جاۓ گا جس کے نتائج مستقبل کا شیرازہ منتشر کرنے والے ہوں گے جس کا خمیازہ ہر ہندوستانی کو بھگتنا پڑے گا۔

سینئر ماہر قانون یادویندر پرتاپ سنگھ یادو ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں مذہبی اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ میں قمر فاٶنڈیشن کی خدمات کو مفصل بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے پروگرام پورے ملک میں کئے جانے کی ضرورت ہے جس سے نفرت پر قدغن لگایا جا سکے۔

صدر جلسہ حافظ عبدالحئ نے قرآن کی روشنی میں دوسرے مذاہب کے عوام کے حقوق سے متعلق مفصل بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی اگرچہ ہندو، عیسائی، سکھ، بودھ کسی بھی مذہب کا ہو اس کی خبرگیری ہر مسلمان پر لازم ہے، اگر اس کے گھر فاقہ ہوا اور پڑوسی مسلمان شکم سیر ہوکر سوگیا تو اللہ کے یہاں پرشش ہو گی۔ اس لئے حقوق کے احترام و ادائیگی کا خاص خیال رکھیں۔

اس موقع پر خاصی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے