(سدھارتھ نگر): بزمِ اربابِ ادب اٹوا کی 89 ویں ماہانہ طرحی ادبی نشست جناب التجا حسین نورصدیقی کی صدارت اور سیدعزیزالرحمٰن عاجز کی نظامت میں بمقام جمال ٹریڈرس منعقد ہوٸی اور شب آن لاٸن تحریری پروگرام بھی ہوا جس قرب وجوار اور دور دراز کے شعر آ ٕ کرام نے شرکت کی اور اپنے کلام پیش کیے،بطورمہمانِ خصوصی نسیم زاہدراماپوری تشریف لاۓ،نشست کا آغاز حافظ شرافت علی نے نعتِ رسول مقبول ﷺ پڑھ کرکیا، منتخب اشعار اردو دوست ،ادب نواز قارٸین کی نذر ہیں۔

چشمِ قاتل میں اتر کر یوں سنور جاتا ہوں

تختہ ٕ دار سے ہنس کر جو گزر جاتا ہوں

جمال قدوسی

مجھ سے کہنے لگا الزام مجسم ہوکر

میں تو اکثر کسی معصوم کے سر جاتا ہوں

نسیم زاہد

بات کل کی ہے محبت سے گلے ملتا تھا

آج تو ہاتھ ملاتے ہوۓ ڈر جاتا ہوں

التجاحسین نور صدیقی

ایک حاجی کی طرح ہوتا ہے جذبہ میرا

جب زیارت کےلیےماں کی،میں گھرجاتاہوں

سیدعزیزالرحمٰن عاجز

سرحدیں مانگتی ہیں خوں کا عطیہ جب جب

سب سے پہلے میں لیے ہاتھ میں سرجاتا ہوں

ارشداقبال

میکدےمیں نہیں ملتا مجھے بھرکر ساغر

دل تو کہتا ہے کہ مت جاٶ مگرجاتا ہوں

ظہیررحمانی

آٸنے کی ہے ضرورت کیا ترے ہوتے ہوۓ

روبرو ہوتے ہی جب تیرے سنور جاتا ہوں

جمال اجمل

بن پیے اپنی طبیعت تو بہلتی ہی نہیں

اب تو میخانے میں بھی شام وسحر جاتا ہوں

عبدالمبین مبیں ایس نگری

خوشبٶوں سے ہے گلوں کی،نہ تعلق کوٸی

دلربا تیرے تخیل سے سنور جاتا ہوں

سلمان حنیف

غم بھلانے کے لیے پیتا ہوں میں جی بھرکر

ان کا مےخانہ جدھر ہے میں ادھر جاتا ہوں

عبدالرب جوہر

اس موقع پر نعیم ارشدالقاسمی وغیرہ نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے