محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ بت ِ عمر کاانجام 
’’شادی چار چیزوں کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ سیرت ، صورت ، خاندان اور دولت ۔ پھر اس میں عمر کامسئلہ کہاں سے آگیابھائی ؟‘‘عبدالباری شاروی نے سوال کیاتو اچانک ہوش آگیاکہ ارے ہاں ، شادی کیلئے دئے گئے فور پوائنٹ اہم ہیں۔ دوسری چیزوں کی حیثیت بہت بعد کی ہے۔
رشتہ کے درمیان عمر کے تفاوت کو بہت بڑا بت بنایاگیاتھا،پھر تو وہ بت پاش پاش ہوکر رہ گیا۔بتوں کاانجام یہی کچھ ہوتاہے۔یہی کچھ ہوناہے ۔
۲۔ محبت کامارا
اس نے کہاتھامیں آرہاہوں ۔ وہ نہیں آسکا۔ میں اپنے کام میں لگ گیا۔ اس نے شام کو فون کیاکہ وہ آرہاہے۔ میں نے حسب معمول انتظارکیا۔وہ نہیں آیا پھررات دیرگئے رات کا کھانا کھاکر سوگیا۔
اس واقعہ کو دوماہ ہوچکے ہیں۔ آج پھر ا س کافون آیاہے کہ وہ آرہاہے۔ آج پھر میںحالت ِ انتظار میں ہوں ۔
۳۔ ترجمۂ قرآن جانتاہے 
فرید متحرک نے بتلایا’’حضرت، اُس نے بہانہ بنادیاہے کہ تحفہ میں دئے گئے ترجمہء قرآن کے حروف چھوٹے ہیں، پڑھ نہیں پارہاہوں ۔اسلئے اگر موٹے حروف والاترجمہ ء قرآن ہوتو لاکر دو،اب یہ موٹے حروف والا ترجمہ ء قرآن کہاں سے لاکر دیاجائے ـ، یہ سب دراصل بہانے بازی ہے اس کو قرآن نہیں پڑھناہے ‘‘
فریدمتحرک کی باتوں میں مایوسی تھی۔ علامہ حضر ت شید احسین نے کہاکہ ’’بظاہر سب کچھ غلط ہے لیکن بباطن سب کچھ ٹھیک ہوتو کیاکیجئے گا؟کچھ نہیں کیاجاسکتا، لہٰذااپنے دینی جذبات اور توقعات پر قابو رکھیں ۔ بے لگام سوچے چلے جانا بدظنی ہوگی ۔ توبہ کریں ‘‘
فریدمتحرک نے علامہ کے سامنے واقعی توبہ کرلی ۔ علامہ حضرت شید احسین کو ہنسی آگئی مگر اس پرفوری قابوپاتے ہوئے کہا’’وہ غیرمسلم بھائی آپ کے دئے گئے ترجمہ ء قرآن کو اپنے گھر ہی میں رکھے گا، جس کی وجہ سے وہ نہ سہی اس کی اولادیں تو قرآن پڑھیں گی نا؟‘‘
اس کو لگاکہ وہ صرف مدعو تک سوچ رہاتھاجب کہ اس کو مدعو کے بال بچوں کے بارے میں بھی سوچناچاہیے تھا۔ پھرتو جیسے اس کو اطمینا ن ہوگیاکہ اس کادیاگیاترجمہ ء قرآن اپناپیغام خود پہنچائے گا۔ اور جس تک پہنچنا ہے اللہ نے ترجمہ ء قرآن کوشایدپہلے سے بتادیاہے الحمد للہ
۴۔ سوکھے ہاتھ 
پودے کو بہت سے خوشنمااور خوشبودار پھول لگتے ضرور ہیں ، پھر وہیں ان کاخاتمہ ہوجاتاہے۔وہ پھول کسی کے گلے کاہاربن کر گھنٹہ آدھاگھنٹے کے لئے اپنی قسمت پر ناز بھی نہیں کرسکتے ۔شاہینہ ان ہی پھولوں میں سے تھی ۔ گھر ہی میں مرجھاکررہ گئی۔ اس کے ہاتھ پیلے نہ ہوسکے۔ میکے ہی میں وہ ہاتھ ایسے ہی رہ گئے۔
۵۔ ایثار 
شوہر نے تکلیف کی شدت کے دوران بیوی کی طرف دیکھا کہ وہ سر کو تھامے بیٹھی ہے، اس نے بے قراری سے پوچھا”کیا بات ہے، خیریت تو ہے”
بیوی نے سر اٹھاکر شوہر کی طرف دیکھا اور کہا”پیٹ میں درد ہورہا ہے”
شوہر بے قرار ہواٹھا۔وہ اپنے پیٹ کا درد بھول چکا تھا۔بیوی کی مزاج پرسی میں لگ گیا۔چند منٹ بعد وہ بیوی کو دِکھانے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔
2 thoughts on “اُردو کے افسانچے ”
  1. تمام افسانچہ بہترین ہیں
    جناب محمد یوسف رحیم بیداری صاحب کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    1. ہمت افزائی کا بہت بہت شکریہ محترم!
      آپ کا مبارکبادی پیغام جناب محمد یوسف رحیم بیدری صاحب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، ان شاء اللہ العزیز۔
      والسلام
      ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے