محب قوم و وطن: انصر نیپالی
آئے دن ہوتے ہیں فضائی حادثے نیپال میں
کیوں کسی کی جان سے ہیں کھیلتے نیپال میں؟
کیوں اٹھا کے لاتے ہیں سب ڈھونڈ کر کچڑا جہاز
شہریوں کی موت کا آخر دیا کس نے جواز؟
جب نہیں ہے طاقت پرواز تیرے پاس میں
کیوں بٹھاتے ہو بتاؤ موت کی آغوش میں
کتنے گھر کے بجھ گئے چولھے تمہاری بھول سے
اب حقیقت کھل گئی تیرے مکھوٹے کھول سے
روز و شب اخبار میں ہیں حادثوں کی سرخیاں
قدرتی آفات سے بھی سہمی ہیں یہ وادیاں
حادثوں کی پرورش کرتے ہو اپنے ہاتھ سے
خود بھی مرتے دوسروں کو مارتے ہو ہاتھ سے
ہم سے اب دیکھی نہیں جاتی ہلاکت خیزیاں
اب مرے برداشت سے باہر ہیں سب کی سسکیاں
آؤ مل کر ڈھونڈ لیں اس کرب سے راہ نجات
ہر کسی کو جان پیاری قیمتی سب کی حیات
آج انصر سب کے دکھ میں ہے برابر کا شریک
مانگتا ہے اپنے رب سے روز وشب رحمت کی بھیک
