زین العابدین عبد الرحمن ممبرا ممبئی

والدین رخصتی کرتے وقت اگر اپنی بیٹی کو پانچ سال کی گارنٹی والے ٹی وی, فریج, کولر, واشنگ مشین کے بجائے یا ساتھ ساتھ میں اگر اس کی پسند کا ایک دین دار شوہر دے دیں تو امید ہے کہ بیٹی لائف ٹائم تک خوش رہے گی ۔ اسی طرح اگر لڑکے والے جہیز لینے کے بجائے ایک دیندار لڑکی لے کے آجائیں تو امید ہے کہ لڑکے کی زندگی خوشگواری سے گزر بسر ہو اور لڑکے کے والدین بھی اپنے دیندار بہو سے گھروں میں کئی اعتبار سے سکون حاصل کرسکتے ہیں ۔
مگر ہمارا معاملہ بالکل برعکس اور رسومات میں گُم ہوگیا ہے اور اسی سبب سے کئی گھر ویران پڑے ہیں ۔ کہیں لڑکے والوں کے پاس دولت نہیں ہے مگر دین ہے تو لڑکی والے اپنی بیٹی دینا گوارہ نہیں کرتے اور کہیں کہیں لڑکی دین دار ہے مگر لڑکے والے جہیز کے بغیر شادی نہیں کرتے ۔آج کئی ایسی لڑکیاں موجود ہیں جو بڑی عمر کو پہنچ چکی ہیں مگر کوئی ان کو اپنا ہمسفر بنانے کو تیار نہیں، اللہ ہمارے حال پر رحم فرما، آمین۔
اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بیٹیوں کو ضروریاتی زندگی کا سامان نہیں دینا چاہئے بلکہ موجودہ صورت حال میں چند سامان کو ترجیح دی جارہی ہے جبکہ جس چیز کو جو ترجیح دینی چاہئے وہ دین دار لڑکا اور دین دار لڑکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے