نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے اس مصیبت بھری زندگی میں جو کام کیا تھا وہ توحید کی دعوت ،عقائد کی درستگی ، شرک سے تنفیر، کفر والحاد سے دوری بنانے کا تھا۔ تقریباً تیرہ سال تک مکی زندگی میں آپ نے صرف اور صرف لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معانی و مفاہیم شروط ،تقاضے، نواقض وغیرہ کو بتاتے رہے ، اور انبیاء کی زندگی ۔ علماء حق و صلحاء و مجددین کی زندگی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے مہم کا آغاز توحید کی دعوت اور شرک وکفر سے دوری، الحب للہ فی اللہ کے اصول پر کیا تھا ۔ چاہے حالات کیسے بھی ہوں ، مصیبتوں کا طوفان ہو ۔ مخاصمين و مخالفين کا ٹولہ ٹوٹ پڑا ہوں ۔ سارے راستے مسدود ہوں پھر بھی توحید وسنت کی دعوت منہج سلف کے مطابق دینا ہماری پہلی ذمہ داری ہے اور یہی نکتۂ ارتکاز بھی ہونا چاہئے ۔ اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن افسوس کہ ذہنوں کو بگاڑ دیا گیا ہے ، حکومت و سیاست کا شور ہے بس ۔ اس وقت کا ایک بڑا فتنہ رویبضہ اور خنفشاریوں کا بھی ہے۔ فکری آوارگی و ذہنی انارکی ایسی کہ حدثاء الاسنان ،سفہاء الاحلام ۔۔۔۔۔ کی واضح تصویر سامنے آجاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید وسنت کا داعی بناۓ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
کتبہ ۔
محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
