میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
قاتلوں کے دوستوں کی ہے یہ آمد
دشمنوں کے ساتھیوں کی ہے یہ آمد
ہے یہ آمد ہسٹری ایسی نئی ہو
دِن مناتے اب ہیں ہم پھر دوستی ہو
دوستی کا اک نیا آغاز ہوگا
ہم بجائیں گے نیا اک ساز ہوگا
یہ علاقہ خوں سے، ہوہو تھا گیا سرخ
ابن آدم اور مسلماں بھی ہوا سرخ
سرخ رو لیکن ہوئے قاتل ہی سارے
رہ گئے بن کے ہمیشہ ہم بیچارے
جئے ہماری کوئی کہہ دے خواب ہے یہ
سچ کوچاہیں ، جذبہ پھر کمیاب ہے یہ
زندگی کے قتل کاکچھ پاس بھی ہے
نوجواں یہ نسل کواحساس بھی ہے
نفرتوں کی نوک پر رکھے گئے تھے
مارڈالے سب گئے ، پر کچھ بچے تھے
بزدلوں کاجینامرنا ایک ہوگا
ہے سیاست ایسی وہ بھی نیک ہوگا
نیک لوگوں سے پرے رہناہے اچھا
بزدلوں کو موت پہلے آتی دیکھا
بس خدایا! ہاتھ اٹھا کر ہے دُعایہ
بخش دے سارے شہیدوں کو صدایہ
اور دعا یہ بھی ، بہادر پھر بنادے
دین کاسورج ترا ، ہم میں اُگادے
