بھگوا گروہ کے تعصب سے ملک بھر میں صف ماتم !

احمد رضا (سہارنپور): دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اپنے وطن عزیز کی آزادی کی خاطر ملک کے لاکھوں شہریوں اور علمائے کرام نے جام شہادت پیکر وطن عزیز کو فرنگیوں کے پنجہ سے آزاد کرا کر کھلی ہوا میں اپنی پاک سر زمین پر سانس لینے کی آزادی فراہم کرائی ہم سبھی قابل قدر مدارس اسلامیہ اور اپنے اکابرین کے شکر گزار ہیں اس کے برعکس جو لوگ جنگ آزادی کے مجاہدوں کو انگریزوں سے ساز کرکے قتل کرا رہے تھے آج وہ برسر اقتدار جماعت کا حصہ بن کر مسلم آبادی پر ظلم و جبر ڈھا رہے ہیں یہ ملک کے آئین اور ملک کے جمہوری نظم و نسق کی بڑی توہین ہے! ہندو مسلم کے درمیان نفرت اور حسد کی کھائیاں کھود کھود کر بھگوا شدت پسند گروپ نے ملک کے امن پسند عوام کے سامنے صف ماتم بچھا دی ہے آسام بھاجپا کے وزیر اعلیٰ ، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ، دہلی اور مدھیہ پردیش کے سینئر بھاجپا قائدین نے مسلم طبقہ کے لئے جس زہریلی زبان کا استعمال کیا ہے اس کو آئین کی روح سے چلنے والے جمہوری نظم و نسق والے ملک میں معاف نہیں کیا جاسکتا ؟ آج بلڈوزر چلا کر ملت اسلامیہ کے گھروں ، مساجد اور مدارس میں آگ لگا کر اور مسلم افراد کو جانی مالی نقصان پہنچا کر بھگوا گروہ خوش ہو رہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ پر حملہ از خد بھگوا غنڈوں کی تباہی کا آغاز ہے دیپک کمار جیسے انسان دوست افراد نے اب خد ظالموں کو سبق سکھانے کا من بنا لیا ہے جگہ جگہ ہندو بھائی بھگوا شدت پسند تنظیموں کے خلاف امن مارچ نکال کر ہندو مسلم اتحاد کا ثبوت پیش کر رہے ہیں قومی میڈیا خاموش تماشائی بنا ہوا ہے مسلم آبادی کے معاملات میں سرکاری مشینری اور قابل احترام عدالتوں کا رویہ بھی سبھی کے سامنے ہے حالات حاضرہ پر گہری نظر ڈالیں تو یہ راز سبھی پر عیاں ہے کہ ملک کو مٹھی  بھر افراد کی حسب منشاء آج کس سمت لے جایا جا رہا ہے اور سبھی ہوش مند سیاست دان  حق کے لئے احتجاج کرنے سے گھبرا رہے ہیں !  ہندو مسلم اتحاد کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے صاف ذہن طبقہ کے لوگوں خاص طور سے مسلم  طبقہ نے حالات حاضرہ سے سبق لیکر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہیں کیا تو آگے آگے ملک بھر میں ظالموں کا غلام بننے کے سوائے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

واضع رہے کہ پچھلے تین سو سال کی مدت کے دوران ہمارے بزرگوں اور علماء کرام نے مدارس اسلامیہ اور خانقاہوں کے ذریعہ وطن عزیز کی آزادی ، تحفظ اور عظمت کیلئے جو جانی اور مالی قربانیاں پیش کی ہیں تا قیامت ان عظیم الشان قربانیوں کا گواہ ملک کا زرہ زرہ رہیگا پوری دنیا ملت اسلامیہ اور مدارس اسلامیہ کی قربانیوں سے خوب واقف ہے! اس لئے آج سخت ضرورت ہے کہ ہم سب اپنے طبقہ کے وجود اور علماء کرام کی شہا دتوں کی عظمت کے لئے ہمت سے کام لیں حق کا ساتھ دیں باطل سے مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں ثابت قدم رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں دنیا کے کاغذی آقاؤ کے تلوے چاٹنے سے پرہیز کریں اللہ تعالیٰ کے غلبہ والے قرآنِ کریم کے سبق کو عام کریں یاد رکھیں جو قرآنِ کریم میں موجود ہے دنیا اس علم سے باہر نہی ہے ہوتا وہی ہے جو اللہ رب العزت نے لکھا ہوا ہے آپکی خد غرضی اور مفاد پرستی کے نتیجہ میں دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ جس طرح سے اسرئیلی سرکار اور فوج نے ظلم و جبر بربہ کرکے غازہ کو قبرستان بنا کر رکھ دیا اور ایک لاکھ سے زائد مسلم آبادی کو شہید کر ڈالا لاکھوں بے گھر ہو کر در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں ٹھیک اسی پلاننگ کے تحت ہی ہیمنت بسوا سرما کی آسام سرکار نے ایک مہینہ تک آسام کے مسلم آبادی والے علاقوں میں بلڈوزر چلا کر لاکھوں مسلمانوں کو سڑک پر لا کھڑا کیا مسلم آبادی کو روزی روٹی سے محتاج بنا ڈالا سبھی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں آسام کے مسلم بھوک سے نڈھال ہیں آسام پولیس پھر بھی جبر ڈھانے سے باز نہیں آ رہی ہے واضع ہو کہ پورے ملک میں ان دنوں تیس کروڑ مسلم آبادی کو ڈرانے دھمکانے اور تباہ و بر باد کر نیکی خطرناک پلاننگ سرگرم ہے جگہ جگہ اجتماعی تشدد ، فرضی مقدمات ، بلڈوزر ایکشن اور دین اسلام کے خلاف گھنونے طور طریقہ انجام دیئے جا رہے ہیں شدت پسند گروپ کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی بلکہ الٹے شکایت لیکر پولیس کے پاس جانے والے مسلم افراد کے خلاف ہی پولیس مقدمہ درج کر مسلم آبادی کے لوگوں کو ہی جیل بھیج دیتی ہے کل ملاکر موجودہ حالات ملک کی جنگ آزادی میں بڑے پیمانے پر جانیں اور سرمایہ لٹا دینے والے مسلم طبقہ کو ہی دوسرے درجہ کا شہری قرار دیتے ہوئے ظلم و ستم کا شکار بنایا جا رہا ہے یہاں یہ بات  بہت ٹھیک ہے کہ جن کے پاس خطیر رقم ہے وہ  خطرات سے تحفظ کے لئے کسی اور ملک میں جاکر آباد ہوجائیں گے، لیکن ان متوسط اور غریب مسلمانوں کا کیا ہوگا جو بڑی مشکل سے پیٹ کی آگ بجھا پاتے ہیں کیا انہیں ان قاتل بھیڑیوں کے حوالے کردیا جائے گا یا پھر انہیں مرتد ہونے پر مجبور کردیا جائے گا؟حالات چاہے جتنے خراب ہوں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس ملک کے وسائل پر جتنا حق اکثریتی طبقے کا اتنا ہی ہمارا بھی ہے ہم کسی بھی معاملہ میں کسی سے کسی بھی صورت کم نہی ہیں اس ملک کو سنوارنے سجانے اور انگریزوں سے آزادی دلانے میں جس قدر جانی اور مالی قربانیاں مسلم آبادی نے دی ہیں اسکا ثانی نہی ہمارا چیلنج یہ ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی شہری ہمارے بزرگوں اور اکابرین کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے علماء کرام کی تین سو سالہ جانی اور مالی قربانیوں سے بھری عظیم الشان تاریخ کو تا قیامت بھلا نہی پا ئیگا یہ ملک سہی معنوں میں مسلم رہنماؤں ، علمائے کرام اور اکابرین کے خون بہانے کی بدولت ہی آج دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا رہا ہے! تعجب تو یہ ہے کہ آج اس جمہوری نظام والے ملک میں بغیر کسی ثبوت کے مسلم طبقہ کے افراد کو چودہ سال ، دس سال اور پانچ سال تک بغیر جرم ثابت ہوئے جیلوں میں خطرناک قیدیوں کی طرح  قید رکھا جاتا ہے  کچھ نچلی عدالتیں خد اپنے ہی عدالتی نظام کے بگڑتے طور طریقوں پرخاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں شرجیل امام ، عمر خالد اور گل فشاں فاطمہ جیسے ہزاروں لوگ بغیر ٹرائل کے لمبے عرصے سے  ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں  نہ کوئی سنوائی ہے نہ کوئی ضمانت مل رہی ہے بس جیل اور قید آخر  ایک جمہوری نظام والے ملک میں اس طرح کی کاروائیاں کیوں؟ عام چرچائیں کہ اپنے ملک میں منظم سازش کے تحت ہر طرف سے مسلمانوں کو سازش کے تحت گھیرا اور تنگ و پریشان کیا جا ر ہا ہے ہندو شدت پسند تنظیم کے لوگوں نے ملت اسلامیہ کو تباہ و برباد کرنے کی منظم پلاننگ تیار کی ہوئی ہے مسلم آبادی پر حملوں میں اضافے کے ساتھ  ساتھ  پولیس کے جانب دارانہ رویہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کی قوت مدافعت بھی جواب دیتی جارہی ہے اب مسلمانوں کے لئے کوئی مسئلہ شرعی تنازعہ کی شکل بھی اختیار نہیں کرتا سب خد کو لاچار اور بے بس ظاہر کر رہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں ہر مسلمان اپنی لڑائی اکیلے اپنے دم پر لڑ رہاہے آسام ، اترا کھنڈ ، اتر پردیش ، مدھیہ پردیش ، گجرات اور راجستھان میں سرکاری مشینری نے جو تباہی مچائی ہے اس جبر و ستم سے سبھی واقف ہیں لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے گھر کے مالک مسلم طبقہ کے لوگ ٹینٹ لگے ہوئے کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں! ملک میں بھاجپا کے زیر اقتدار حکومتیں ان دنوں صرف اور صرف مسلم آبادی کو اقتصادی طور سے کمزور ، خوف زدہ ، ذلیل اور خوار کرنے کے لئے ہزاروں سے زائد مکانات اور دکانات کو بلڈوزر چلا کر زمین بوس کر نے میں راحت اور مسرت محسوس کر رہی ہیں ایسے نازک حالات میں سیاسی میدان میں مسلم آبادی کے ووٹ سے اقتدار حاصل کرنے والی جماعتیں بھی خاموش بیٹھ کر مسلمانوں کی بربادی دیکھ رہی ہیں آسام میں  لاکھوں مسلمانوں کو مکانات اور دوکانات سے محروم کر دیا گیا ہے بھاری بھیڑ سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے نیز سرکاری ظلم سے بچے ہوئے باقی کمزور و مجبور مسلم افراد اپنے نمبر آنے کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد بھی مسلم قیادت میں اجتماعیت پر انفرادیت کو ترجیح دی جارہی ہے مسلکی اختلافات نے اتحاد کے قدر وں کو تار تار کر تے جا رہے ہیں قرآن و حدیث میں موجود اتحاد بین المسالک و اتحاد بین الاقوام کے سارے اصول منسوخ مان لئے گئے۔ ناموس رسالت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، مسلمان نسلیں ارتداد کی آغوش میں پناہ تلاش رہی ہیں۔ مسلم لڑکیوں کی کوکھ میں کفر پرورش پا رہا ہے۔ اللہ اکبر کی صدائیں جے شری رام میں تبدیل ہوگئیں۔ ملت کا ہرگھر ہندو دہشت گردوں کے نشانے پر ہے کب کہاں کس کو ہندو انتہا پسند موت کی نیند سلا دیں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ حق اور انصاف کی آواز بلند کرنے والے اداروں نے مسلم دشمنی کو ہی اپنی ڈیوٹی مان لی ہے۔ آزادانہ طور پر مسلمانوں کی بات کرنے والے افراد حکومت اور انتظامیہ کے نشانے پر ہیں کچھ گمنام لوگ ہیں کہ جن کی سماجی اعتبار سے  کوئی حیثیت نہیں لیکن پھر بھی وہ بول رہے ہیں ہر ممکن مسلمانوں کے مسائل اور ان کے حل کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ان کی کوئی سننے والا نہیں ہے ملک کی مکمل مشینری بھگوا گروہ کے زیر اثر ہو چکی ہے جن صاحب منصب اور بااثر افراد کو اللہ نے نوازا ہے وہ خد بھگوا گروہ سے خائف ہیں آج جو لوگ بے خد کے محدود ذرائع کے ساتھ مسلمانوں کی آواز اٹھانے کا جوکھم لے رہے ہیں جلد ہی انہیں بھی اپاہج بنا دیاجائے سینئر آئی اے ایس شاہ فیصل اور شہلا راشد اور دیگر سیکڑوں افراد کی طرح وہ بھی سنگھ اور بی جے پی کی گود میں پناہ لے لیں گے یا اپنی موت آپ مر جائیں زیادہ سخت جان ہوئے تو طاہر حسین، شفاء الرحمان ، عمر خالد ، گل فشاں فاطمہ ، شر جیل امام ،عمر گوتم ، خالد سیفی، اور مولانا قمرغنی عثمانی کی طرح جیل کی کال کوٹھری میں عبرت کا نشان بنا کر ڈال دیئے جائیں گےانفرادی جد جہد کرنے والے مہذب سوشل کارکن بھی اب اسلام دشمنوں کے رڈار پر ہیں مسلمانوں کی بچی کھچی اس  سیکولر ڈھال کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردینے کا پلان تیزی کے ساتھ سرگرم ہے حق کی آواز دبانے کے لئے خطرناک اقدام کئے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کا نسلی صفایا کیا جاسکے یہ اطلاعات ج وقفہ وقفہ مسلمانوں کو دی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتا۔ جس کا سیدھا سا نتیجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ملک میں ہندوانتہا پسندی ترقی کررہی ہے ویسے ویسے مسلمانوں کی بے حسی بھی پروان چڑھ رہی ہے ملت کے ہر فرد کی فکر اپنے وجود تک محدود ہوچکی ہے، ملی اور معاشرتی تبدیلیاں مسلمانوں کے اہداف کا حصہ نہیں رہیں مسلمان آج خود شکم سیر رہنے کے لئے اپنی نسلوں کو بھوکا رکھنے کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ اپنے ایک پیٹ کی خاطر پوری قوم کو بھوکا ننگا کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ حلال و حرام کا امتیاز کئے بغیر مال جمع کرنا ہی مسلمانوں کے زندگی کا واحد مقصد بن گیا ہےمسلم افراد کو لگتا ہے کہ اس کا جمع کردہ مال اس کا اور اس کے خاندان کی حفاظت کر لے گا۔ حالانکہ تاریخی شواہد اس کے برعکس ہیں۔ دولت کے بل پر سب کچھ خریدا نہیں جاسکتا ہے۔ اگر آپ کو صفحہ ہستی سے مٹا کر آپ کے حصے کا پورا مال چھینا جا سکتا ہے، تو تھوڑی سی رشوت پر بھلا کتنے دنوں تک خود کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے؟پوری ملت اسلامیہ ہند کے صف اول کے علماء دانشور اور ارباب سیاست نے یہ مان لیا ہے کہ پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔ لہذا اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ملت کے متمول گھرانے خود کو بیرون ممالک منتقل کرنے لگے ہیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے